مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 11 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 11

11 عقیقہ کی حکمت بچہ کی پیدائش پر خوشی ایک فطرتی بات ہے اسلام چونکہ دین فطرت ہے اس لئے اس خوشی کے اظہار کے لئے بھی ایسی ہدایات دیں جس میں بچہ اور اس کے والدین کی خدا اور نیکی کی طرف توجہ پھرے، خدا کا شکر ادا ہو۔جب کہ دنیا دار لوگ اس موقعہ پر راگ رنگ اور ناچ کی محفلیں سجاتے ہیں جو کہ کسی طرح بھی جائز نہیں۔عرب اسلام سے پہلے بھی بچہ کی پیدائش پر جانور ذبح کیا کرتے تھے۔جس کو ایک پاکیزہ رنگ دے کر قائم رکھا گیا۔چنانچہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا:۔’بچہ جب سات روز کا ہو جائے تو اس کا نام رکھا جائے اس کے بال منڈوائے جائیں اور قربانی دی جائے ( ابن ماجہ )۔حدیث میں آتا ہے کہ جب آپ کے نواسے حضرت حسن پیدا ہوئے تو آپ کا عقیقہ کیا گیا۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا: ” جانور کی ایک ران دائی کو بھیج دو اور باقی خود کھاؤ اور دوسروں کو کھلاؤ۔(سنن ابوداؤد) ابن ماجہ باب العقیقہ کے حوالہ سے فقہ احمدیہ میں لکھا ہے: ”بچہ کی پیدائش پر ساتویں روز سر کے بال اتروانا اور ان بالوں کے برابر چاندی یا سونا بطور صدقہ دینا ، نام رکھنا اور عقیقہ کرنا مسنون ہے۔عقیقہ سے مراد جانور کا ذبح کرنا ہے۔لڑکے کی صورت میں دو بکرے یاد نے لڑکی کی صورت میں ایک بکر ایا دنبہ ذبح کرنا چاہئے۔۔۔عقیقہ کا گوشت انسان خود بھی کھا سکتا اور دوست احباب رشتہ داروں کو بھی دے سکتا ہے۔پکا کر دعوت بھی کر سکتا ہے۔غریبوں کو بھی اس میں سے حصہ دینا