مکتوب آسٹریلیا — Page 107
107 (Mucus) پیدا کرتے ہیں جس کو پتلا کرنے کے لئے نمک درکار ہوتا ہے۔چنانچہ دمہ کے مریضوں کو تکلیف کے وقت نمک کا استعمال بڑھا دینا چاہئے بلکہ جب دیکھیں کہ دمہ والی کیفیت ہو رہی ہے تو نمک زبان میں رکھ لیں جس سے دماغ یہ سمجھے گا کہ جسم میں نمک پہنچ گیا ہے اور وہ بلغم کو پتلا کرنے کی ہدایات جاری کر دے گا جس کے نتیجہ میں جسم کے ہوا کے سکڑے ہوئے رستے کھل جائیں گے اور دمہ کا مریض بہتر محسوس کرنے لگے گا۔ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں کہ اگر کوئی دمہ کا مریض ان کی ہدایات کے مطابق پانی پئے گا تو وہ دو ہفتوں میں ٹھیک ہو جائے گا۔زیادہ پانی پینا معدے کی تیزابیت اور قبض کے لئے بھی مفید ہے پانی صاف ہونا چاہئیے اور ابلا ہوا ہو تو بہتر ہے۔سمندری نمک عام نمک سے بہتر ہے جسم میں پانی کی کمی (Dehydration) دور کرنے کے لئے نمکین پانی ہی استعمال کرتے ہیں۔ہسپتالوں میں بھی نمکین پانی کا ڈرپ لگاتے ہیں۔اس سلسلہ میں احتیاط کی بھی ضرورت ہے۔پانی اور نمک کا استعمال بڑھانے سے پہلے ہائی بلڈ پریشر ، دمہ، ذیابطیس اور دل کے مریض جو کوئی دوا استعمال کر رہے ہوں اپنے معالج سے ضرور مشورہ کریں۔نمک سے پریشر فورا بڑھ جاتا ہے۔ڈاکٹر فریدون کہتے ہیں کہ چائے اور کو لاقسم کے جو مشروبات بازار میں ملتے ہیں وہ پانی کی اس چار لیٹر کی حد میں شامل نہیں جو بالغ آدمی کو روزانہ پینا چاہئے۔بلکہ یہ مشروبات تو اصل مقصد کے خلاف کام کرتے ہیں۔ان میں کیفین (Caffeine) شامل ہوتی ہے جو پیشاب آور ہونے کی وجہ سے جسم سے پانی کو خارج کرتی ہے۔اس لئے کافی کے ہر کپ کے بعد اس کے اثر کو زائل کرنے کے لئے اتنا ہی سادہ پانی پینا چاہئے۔یہی صورت پھلوں کے جوس کی ہے۔سنگتروں کا جوس پینے سے جسم میں اتنی پوٹاشیم داخل ہو جائے گی جو جسم کے اندرونی توازن کو بگاڑ سکتی ہے لہذا صاف سادہ پانی ہی استعمال کرنا چاہئے۔(ماخوذ از : Your Body's many cries for water by Dr" Fereydoon Ghelidj, Boo Books) ہوا کے بعد پانی انسان کی سب سے بڑی ضرورت ہے اور اللہ کی بڑی نعمت ہے۔پیاس مٹانے کے لئے سادہ پانی سے بہتر کوئی مشروب نہیں۔پانی تھوڑا پینے سے زہریلے مادے جسم میں جمع ہو جاتے ہیں جو بیماریوں کا موجب بنتے ہیں۔آج کل بازاری مشروبات نے ہر طبقہ کے لوگوں کو