مکتوب آسٹریلیا — Page 106
106 (Ulser) انجائنا، سردرد ، کمر درد ، جوڑوں کا درد، قولنج (Colitis) کھچاؤ تناؤ (Stress)، ذیابیطس اور موٹا پا وغیرہ شامل ہیں۔نیز الرجی کی تکلیف کئی شکلیں اختیار کر سکتی ہیں۔جسم کے پیاسے خلیات (Cells) پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لئے کئی قسم کے رد عمل ظاہر کرتے ہیں۔جو بعض دفعہ اتنے شدید ہوتے ہیں کہ وہ اپنی ذات میں بیماریاں بن جاتی ہیں۔انہی کو الرجک ری ایکشن بھی کہا جاتا ہے۔کتاب کے مصنف ڈاکٹر فریدون ایرانی نژاد امریکی ہیں۔جب ایران میں ثمینی انقلاب آیا تو ان کو سزائے موت سنائی گئی۔وہ ایران کی ایک جیل میں اڑ ہائی سال قیدر ہے جہاں تین ہزار اور قیدی بھی تھے۔جیل میں علاج معالجہ کی سہولتیں نہ ہونے کے برابر تھیں چنانچہ ڈاکٹر صاحب کو مجبوراً قیدیوں کا علاج پانی اور نمک وغیرہ سے کرنا پڑتا تھا۔وہ حیران ہوئے کہ پانی بطور دوا کے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔چنانچہ قیدیوں پر اس تھیوری کو آزمانے کے لئے تجربہ کرتے رہے اور بڑی احتیاط سے انہیں ریکارڈ کرتے رہے۔انہوں نے دو ہزار سال پرانے ایرانی حکماء کے تجربوں کی تصدیق کی جو در داور صدمہ کی حالت میں مریض کو پانی پلایا کرتے تھے اور اس کی زبان پر نمک رکھا کرتے تھے۔چنانچہ اسی بناء پر ان کی جان بخشی کر دی گئی۔ڈاکٹر صاحب کے پاس ایک قیدی سخت پیٹ درد کی حالت میں آیا۔انہوں نے اسے دو گلاس پانی پلایا اور آٹھ منٹ کے بعد درد دور ہوگئی۔وہ کہتے ہیں جسم میں بعض کیمیکلز ہوتے ہیں جو جسم کے افعال کو درست حالت میں رکھتے ہیں وہ تب ہی کام کر سکتے ہیں جب وہ پانی میں حل ہوں۔ایک ایسا کیمیکل (Histamine) بھی ہے جو دماغ سے پیغام لاتا ہے اور جسم میں پانی کی تقسیم اور استعمال کو صحیح رکھتا ہے۔نیز جسم کے دفاعی نظام کو کنٹرول کرتا ہے لیکن خود ہسٹا میں کا کام بھی تبھی درست رہتا ہے جب جسم میں مناسب مقدار میں پانی موجود ہو۔جب جسم میں پانی کی کمی ہو جائے تو اس کی مقدار پانی کے تناسب سے بڑھ جاتی ہے اور اس کا عمل نارمل حالت سے زیادہ تیز ہو جاتا ہے۔اور اس کے ردعمل کے طور پر جسم کے ہوا کے راستے بند ہونے لگتے ہیں اور سانس لینے میں دقت پیدا ہو جاتی ہے۔چنانچہ دیکھا گیا ہے کہ دمہ کے مریضوں کے پھیپھڑوں (Lungs) میں Histamine نارمل مقدار سے زیادہ پائی جاتی ہے۔اگر ایسی حالت میں جسم میں پانی کم ہوگا تو پھیپھڑے بلغم