مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 400 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 400

400 جو بیت اللہ کا طواف کر رہے ہیں مگر وہ کچھ اجنبی قسم کے لوگ ہیں جن کو میں پہچانتا نہیں۔پھر انہوں نے دو شعر پڑھے جن میں سے ایک تو مجھے بھول گیا مگر دوسرا یا در ہا۔وہ شعر جو مجھے یادر ہا وہ یہ تھا کہ لَقَدْ طُفْنَا كَمَا طُفْتُمْ سِنِيْنَا بِهَذَا الْبَيْتِ طُرًّا أَجْمَعِيْنَا یعنی ہم بھی اس مقدس گھر کا سالہا سال اسی طرح طواف کرتے رہے ہیں جس طرح آج تم اس کا طواف کر رہے ہو۔وہ فرماتے ہیں مجھے اس پر بڑا تعجب ہوا۔پھر ان میں سے ایک شخص نے مجھے اپنا نام بتا یا گروہ نام بھی ایسا تھا جو میرے لئے بالکل غیر معروف تھا۔اس کے بعد وہ شخص مجھ سے کہنے لگا کہ میں تمہارے باپ دادوں میں سے ہوں۔میں نے پوچھا کہ آپ کو وفات پائے کتنا عرصہ گزر چکا ہے؟ اس نے کہا کہ چالیس ہزار سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔میں نے کہا کہ زمانہ آدم پر تو اتنا عرصہ نہیں گزرا۔اس نے کہا تم کس آدم کا ذکر کرتے ہو؟ کیا اس آدم کا جو تمہارے قریب ترین کا زمانہ میں ہوا ہے یا کسی اور آدم کا ؟ وہ کہتے ہیں اس پر معا مجھے آنحضرت ﷺ کی یہ حدیث یاد آ گئی کہ اللہ تعالیٰ نے ایک لاکھ آدم پیدا کئے ہیں اور میں نے یہ سمجھا کہ میرے یہ جد اکبر بھی انہیں میں سے کسی آدم سے تعلق رکھنے والے ہونگے۔فتوحات مکیہ جلد ۳ باب ۲۹ صفحه ۵۴۹ منقول از تفسیر کبیر ) حضرت محی الدین صاحب ابن عربی کا یہ کشف بتا رہا ہے کہ بیت اللہ نہایت قدیم زمانہ سے دنیا کا مرکز اور لوگوں کی ہدایت کا ایک ذریعہ بنارہا ہے اور اسی طرح یہ دنیا بھی لاکھوں سال سے چلی آرہی ہے۔چنانچہ آج سے ہزار ہا سال قبل بھی لوگ اس مقدس گھر کا اسی طرح طواف کرتے رہے ہیں۔یہی حقیقت قرآن کریم نے بیان فرمائی ہے کہ یہ بیت العتیق ہے جو زمانہ قدیم سے خدا تعالیٰ کے انوار و برکات کا تجلی گاہ رہا ہے اور قیامت تک دنیا کو ایک مرکز