مکتوب آسٹریلیا — Page 401
401 پر متحد رکھنے کا ذریعہ بنا رہے گا۔“ حضرت آدم علیہ السلام کا سن پیدائش ( تفسیر کبیر جلد ۵ حصہ اول صفحہ ۳۸-۳۹) آئیے اب آدم علیہ السلام کا سن پیدائش معلوم کریں۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیسے ممکر ہے؟ یہ تو زمانہ ماقبل تاریخ کی بات ہے، اس زمانہ کی کوئی تحریر ریکارڈ دستیاب نہیں۔یہ بھی ظاہر ہے کہ آدم علیہ السلام کے زمانہ کا کوئی ایسا پتھر بھی دستیاب نہیں ہو سکتا جس پر ” قبل مسیح میں کوئی سن درج ہو لیکن خدائے علیم وخبیر سے کوئی بات مخفی نہیں۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کشفاً آدم کے سن پیدائش سے خبر دی۔چنانچہ حضور فرماتے ہیں:۔” خدا تعالیٰ نے مجھے ایک کشف کے ذریعہ سے اطلاع دی ہے کہ سورۃ العصر کے اعداد سے بحساب ابجد معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک عصر تک جو عہد نبوت ہے یعنی تئیس برس کا تمام و کمال زمانہ کل مدت گزشتہ زمانہ کے ساتھ ملا کر ۴ ۹۳۷ برس ابتدائے دنیا سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روز وفات تک قمری حساب سے ہے۔" 66 پھر حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: (تحفہ گولر و یه صفحه ۹۳ - ۴۹) دوستشسی حساب کی رو سے ۹۸۴۵ برس بعد آدم صفی اللہ حضرت نبینا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظاہر ہوئے۔“ (تحفہ گولڑویہ صفحه ۹۲) اگر ظہور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دعوی نبوت مراد لیا جائے جو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ۱۰ عیسوی میں فرمایا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مذکورہ بالا کشف کی رو سے آدم علیہ السلام سن ۳۹۸۸ قبل مسیح پیدا ہوئے۔