مکتوب آسٹریلیا — Page 165
165 کے باب سات اور آٹھ میں بیان کیا گیا ہے جس کے مطابق طوفان نوح ساری زمین پر محیط تھا اور ہر زندہ چیز جو زمین پر اس وقت موجود تھی انسان، جانور، پرندے وغیرہ سب مٹ گئے تھے اور صرف وہی بچے تھے جو نوح کے ساتھ کشتی پر سوار تھے۔یہ بیان موجودہ بائبل کے ان مقامات میں سے ہے جنہوں 9966 نے لوگوں کو د ہر یہ بنا کر مذہب سے دور کر دیا ہے اور قرآن کریم نے بائبل کی اصلاح کی ہے۔قرآن کے مطابق نوح تمام دنیا کی طرف نبی نہ تھے بلکہ ایک قومی نبی تھے۔قرآن بار بار اس کی قوم ” میری قوم کے الفاظ میں ان کی امت کا ذکر کرتا ہے۔شرعی عذاب نبی کے انذار کے بعد ہی نازل ہوتا ہے۔حضرت نوح نہ ساری دنیا کی طرف مبعوث ہوئے تھے اور نہ ساری دنیا پر طوفان کا عذاب آیا تھا۔یہ بھی قرآن میں نہیں لکھا کہ حضرت نوح کو تمام ذی حیات انواع اور ان کی خوراک کو کشتی پر سوار کرنے کا حکم ملا تھا۔ان کو صرف ضروری جانور ساتھ رکھنے کا حکم ہوا تھا۔ایسے ہی تمام دنیا کے انسان نوح کے تین بیٹوں کی اولاد نہیں بلکہ جہاں نوح علیہ السلام کے ساتھ جو چند مومن تھے ان کی نسل چلی ہوگی وہاں ان انسانوں کی بھی جو زندگی کے آغاز ہی سے دنیا کے مختلف حصوں میں پھیل چکے تھے۔پس جہاں قرآن کریم صحیح واقعات کو بیان کرتا ہے وہاں اس امر میں بائبل کا بیان وحی والہام سلسلہ نبوت اور خدا کی ہستی کے بارہ میں مطمئن نہیں کرتا بلکہ شکوک وشبہات میں مبتلا کرتا ہے جیسا کہ کالم نگار کے مذکورہ بالا فقرات سے ظاہر ہے۔(الفضل انٹر نیشنل 2۔2۔96)