مکتوب آسٹریلیا — Page 72
72 ہے۔مثلاً دانتوں کی بیماریاں، گردے، جگر ، معدہ اور پھیپھڑوں وغیرہ کی خرابی۔اور دوسرے اعضاء کی خرابی ، چنانچہ اس انکشاف نے بیماریوں کی تشخیص اور ان کے علاج کا نیا باب کھول دیا ہے۔کوشش ہوگی کہ صحت بخش بیکٹیریا کی مدد کی جائے اور مضر صحت بیکٹیریا کو دبایا جائے اور مضر صحت بیکٹیریا کو دبایا جائے۔ابھی یہ تحقیق ابتدائی مراحل میں ہے لیکن پھر بھی ۶۱۵ قسم کے بیکٹیریا منہ کے اندر معلوم ہو چکے ہیں اور مزید ہورہے ہیں۔(بحوالہ سڈنی مارننگ ہیرلڈ۷۲ / مارچ ۲۰۰۳ء) اس خبر میں دو پہلو خاص دلچسپی کے حامل ہیں۔ایک تو یہ کہ رحمان خدا نے اربوں ننھے مزدور ہمارے منہ کے اندر ہماری خدمت میں لگارکھے ہیں جن کے بغیر شاید ہم زندہ ہی نہ رہ سکتے۔دوسری بات یہ کہ لعاب دہن ایک رنگ میں انسان کے سارے اعضاء اور ان کے حالات کی نمائندگی کرتا ہے جو لوگ پورے طور پر خدا کے ہو جاتے ہیں خدا ان کا ہو جاتا ہے اور ان کے ذریعہ اپنے نشانات ظاہر فرماتا ہے۔ان کے وجود کے ہر عضو میں ، ان کے چھونے میں لباس میں اور لعاب دہن میں برکت رکھ دیتا ہے۔جس کو جب وہ چاہے اور جس کے لئے چاہے اقتداری معجزہ دکھا دیتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: اگر تم اپنے نفس سے درحقیقت مرجاؤ گے۔تب تم خدا میں ظاہر ہو جاؤ گے اور خدا تمہارے ساتھ ہوگا اور وہ گھر بابرکت ہوگا جس میں تم رہتے ہوگے اور ان دیواروں پر خدا کی رحمت نازل ہوگی جو تمہارے گھر کی دیوار میں ہیں اور وہ شہر بابرکت ہوگا جہاں ایسا آدمی رہتا ہوگا۔“ (رساله الوصیت صفحه ۱۰) انبیاء واولیاء کی زندگیوں میں ایسے کئی واقعات ملتے ہیں جن میں ان کے محض چھونے سے، کپڑوں سے یا لعاب دہن سے لوگوں نے برکت پائی اور بیماروں نے صحت پائی حضرت مرزا بشیر احمد نے اس طرح کا ایک دلچسپ واقعہ یوں بیان فرمایا ہے: مسماۃ امتہ اللہ بی بی سکنہ علاقہ خوست مملکت کا بل نے مجھ سے بیان کیا کہ جب وہ شروع شروع میں اپنے والد اور چچا سید صاحب نور اور سید احمد نور