مکتوب آسٹریلیا — Page 71
71 لعاب دہن۔پورے وجود کا نمائندہ ہارورڈ یونیورسٹی کے سکالرز کہتے ہیں کہ انسان کا منہ اس کے وجود کی کھڑکی کی طرح ہے جس میں جھانک کر گھر کے اندر کا حال معلوم کیا جاسکتا ہے۔لعاب دہن ایک رنگ میں پورے وجود کا نمائندہ ہے اور جسم کے تمام اعضاء کی کیفیت اور کارکردگی کا آئینہ دار ہے۔منہ کے اندر بے شمار انواع واقسام کے اربوں بیکٹیریا، وائرس، مائیکروب خمیری مادے اور نمکیات پائے جاتے ہیں۔یہ بھی مخلوق دوطرح کی ہے ایک وہ ہے جو صحت دینے والی ہے اور دوسری بیماری پیدا کرنے والی ہے لیکن یہ بھی ایک رنگ میں انسان کی خدمت کرتی ہے کیونکہ وہ اپنی ہی قسم کے مضر بیکٹیریا کو جو کھانے پینے کے ساتھ منہ میں داخل ہوتے ہیں ان کو اسی طرح مار مار کر ہلاک کرتی ہے جس طرح کسی ملک کے پرانے باسی باہر سے آنے والے حملہ آوروں کا مقابلہ کرتے ہیں۔مفید صحت بیکٹیر یا ہر آن مضر صحت بیکٹیریا سے الگ برسر پیکار رہتے ہیں۔یہ جنگ خوراک نمی ،جگہ اور محفوظ ٹھکانوں کے لئے لڑی جاتی ہے۔جب بیکٹیریا کا ماحول تبدیل ہوتا ہے یعنی انسان اپنی خوراک تبدیل کرتا ہے ، دوائیں بالخصوص اینٹی بائیوٹک استعمال کرتا ہے تو منہ کے ان باسیوں میں بھی ردو بدل ہوتا ہے اور مخالف قوتوں کے توازن میں تبدیلی آتی ہے۔یہ بکٹیریا منہ کے اندر بے ہنگم انداز سے نہیں رہتے بلکہ اپنی علیحدہ بستیاں بسا کر ترتیب سے رہتے ہیں۔ان کے بڑے بڑے ٹھکانے دانتوں کے مسوڑھے اور زبان کا نچلا حصہ ہوتا ہے۔چنانچہ ان کے معائنہ سے جسم کے مختلف اعضاء کا حال معلوم کیا جاسکتا