مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 73 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 73

73 کے ساتھ قادیان آئی تو اس کی عمر بہت چھوٹی تھی اور اس کے والد ین اور چا چی حضرت سید عبداللطیف صاحب شہید کی شہادت کے بعد قادیان چلے آئے تھے۔مسماة امتہ اللہ کو بچپن میں آشوب چشم کی سخت شکایت ہو جاتی تھی اور آنکھوں کی تکلیف اس قدر بڑھ جاتی تھی کہ انتہائی درد اور سرخی کی شدت کی وجہ سے وہ آنکھ کھولنے کی طاقت نہیں رکھتی تھی۔اس کے والدین نے اس کا بہت علاج کرایا مگر کچھ آفاقہ نہ ہوا اور تکلیف بڑھتی گئی۔ایک دن جب اس کی والدہ اسے پکڑ کر اس کی آنکھوں میں دوائی ڈالنے لگی تو وہ ڈر کر یہ کہتے ہوئے بھاگ گئی کہ میں تو حضرت صاحب سے دم کراؤں گی۔چنانچہ وہ بیان کرتی ہے کہ میں گرتی پڑتی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گھر پہنچ گئی اور حضور کے سامنے جا کر روتے ہوئے عرض کیا کہ میری آنکھوں میں سخت تکلیف ہے اور در داور سرخی کی شدت کی وجہ سے میں بہت بے چین رہتی ہوں اور اپنی آنکھیں تک نہیں کھول سکتی آپ میری آنکھوں پر دم کر دیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دیکھا تو میری آنکھیں واقعی خطرناک طور پر ابلی ہوئی تھیں اور میں درد سے بے چین ہوکر کراہ رہی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی انگلی پر اپنا تھوڑا سا لعاب دہن لگا یا اور لمحہ کے لئے رک کر (جس میں شائد حضور دل میں دعا کر رہے ہوں گے ) بڑی شفقت اور محبت کے ساتھ اپنی یہ انگلی میری آنکھوں پر آہستہ آہستہ پھیر دی اور پھر میرے سر پر ہاتھ رکھ کر فرمایا! بیچی جاؤ اب خدا کے فضل سے تمہیں یہ تکلیف پھر کبھی نہیں ہوگی۔“ روایت مسماۃ امتہ اللہ بی بی مہاجرہ علاقہ خوست ) مسماۃ امتہ اللہ بیان کرتی ہے کہ اس کے بعد آج تک جب کہ میں ستر سال کی بوڑھی ہو چکی ہوں کبھی ایک دفعہ بھی میری آنکھیں دکھنے نہیں آئیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دم کی برکت سے میں اس تکلیف سے بالکل محفوظ رہی ہوں۔حالانکہ اس سے پہلے میری آنکھیں اکثر دکھتی رہتی تھیں اور میں نے بہت تکلیف اٹھائی تھی۔وہ بیان کرتی ہے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنا لعاب دہن لگا کر میری آنکھوں پر دم کرتے ہوئے اپنی انگلی پھیری تو اس وقت میری عمر صرف دس