مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 365 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 365

365 سال دور ہے۔دوسرے نظام ہائے شمسی اس سے زیادہ ہوں گے۔ہماری کہکشاں کوئی ایک لاکھ نوری سال لمبی چوڑی ہے۔A Brief History of Time By Stephen Hawking(P39) اس لئے ہماری کہکشاں کے قریب ترین کہکشاں ظاہر ہے ایک لاکھ نوری سال سے زیادہ فاصلہ پر ہوگی اور ان میں اگر کوئی زندہ مخلوق ہو اور انہیں بجلی کی رفتار سے کوئی پیغام بھیجا جائے تو اس کے آنے جانے میں کم از کم دو لاکھ سال گزر جائیں گے اور بعض کہکشائیں تو اتنی دور ہیں کہ وہاں پیغام کے آنے جانے میں اربوں سال تک لگ جائیں گے اور اتنی عمر تو خود ہماری زمین کی بھی نہیں ہوگی اور اگر ہوگی بھی تو پتہ نہیں کس قسم کی مخلوق اسپر اسوقت بستی ہوگی۔خدا فرماتا ہے کہ ہم اس چیز پر قادر ہیں کہ ہم انسانوں کی جگہ کوئی ان سے بہتر مخلوق لے آئیں۔(المعارج: ۴۲) جب پیغام بھیجنے اور وصول کرنے والے ہی نہ رہے تو رابطہ تو قائم نہ ہوسکا۔اس لئے یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ آسمانی کروں کی زندگی ہماری اپنے کہکشاں میں ہی کہیں قریب قریب مل جائے۔اس سلسلہ میں ایک دلچسپ خبر امریکہ سے آئی ہے انہوں نے وہاں کسی لیبارٹری میں ایسے کامیاب تجربے کئے ہیں جن سے روشنی کی رفتار کئی گنا بڑھائی جاسکتی ہے۔(مادہ کی رفتار روشنی سے زیادہ نہیں بڑھ سکتی لیکن الیکٹرانک سگنلز کی بڑھائی جاسکتی ہے )۔ان کا اندازہ ہے کہ روشنی کی رفتار ۳۰۰ گنا تک بڑھائی جاسکتی ہے یعنی اگر کوئی زندگی رکھنے والا سیارہ ۳۰۰ نوری سالوں کے فاصلہ پر بھی واقع ہو تو پیغام وہاں پہنچنے میں صرف ایک سال لے گا اور اتنا ہی عرصہ واپسی پر لگے گا۔اس لئے یقین ہے کہ خدا کی زمینی اور آسمانی مخلوق کے رابطہ کی کوئی صورت جب خدا چاہے گا تو ضرور نکل آئے گی۔کائنات کی وسعت، توازن، ترتیب، حکمت اور ڈایزئن دیکھ کر مومن کی روح وجد میں آتی اور پکار اٹھتی ہے۔رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلاً سُبْحَنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (الفضل انٹر نیشنل 20۔2۔04)