مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 366 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 366

366 وقت کا راز بچپن سے ہی سنتے آئے ہیں کہ وقت بہت قیمتی چیز ہے۔اس کی قدر کرو۔وقت کا تیر جب کمان سے نکل جائے تو واپس نہیں آسکتا لیکن وقت بجائے خود ایک سر بستہ راز ہے۔وقت آخر کیا چیز ہے آیا اس کا وجود ہے بھی کہ نہیں اس کی حقیقت کا کیسے پتہ چلے؟ کیا اسے حواس خمسہ کی مدد سے معلوم کیا جا سکتا ہے جواب نفی میں ہے کیونکہ وہ اسے دیکھ سکتے ہیں نہ سن سکتے ہیں نہ چھو سکتے ہیں اور نہ ہی سونگھ اور چکھ سکتے ہیں۔یہ بھی معلوم نہیں کہ اس کا آغاز کب ہوا اور خاتمہ کب ہوگا یہ کہاں سے آتا ہے اور کدھر کو جاتا ہے اگر یہ حرکت کر رہا ہے تو کیا بھی ساکن بھی ہوسکتا ہے اگر وقت کا تیر بالفرض مشرق سے مغرب کی طرف بڑھ رہا ہے تو کیا کبھی اس کا رخ مغرب سے مشرق کی طرف بھی پھیرا جاسکتا ہے اگر کبھی یوں ہوسکتا تو یہ حسرت بھی پوری ہو جاتی کہ دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو اور جب کائنات کی صف پیٹی جائے گی تو کیا الٹی چلنے والی فلم کی طرح وقت الٹنا شروع ہو جائے گا اور پھر اگر کبھی یوں ہوا تو کیا گزرے ہوئے واقعات پھر الٹے دہرائے جائیں گے۔آئیے دیکھیں کہ حکماء وقت کی ماہیت کے بارہ میں کیا کہتے ہیں۔وقت کی تعریف وقت کی تعریف بھی گول دائرہ کی طرح ہے جیسے کوئی پوچھے کہ مرغی پہلے پیدا ہوئی تھی