مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 364 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 364

364 چاہئیں۔نہ بہت زیادہ ہونی چاہئیں نہ بہت کم۔تیسری بات یہ کہ زندگی کے قیام کے مناسب حال سیارے نہ تو کہکشاں کے مرکز سے بہت دور ہونے چاہئیں نہ بہت نزدیک۔چوتھی بات یہ کہ وہی سیارے زندگی کی پیدائش کے لئے مناسب ہیں جو اپنی عمر کے اعتبار سے بچے ہوں نہ بوڑ ھے۔دونوں صورتوں میں حالات زندگی کے لئے مناسب نہیں رہیں گے۔ایسے سیاروں کی عمر تین تا پانچ ارب سال ہونی چاہئے۔(جیسے ہماری زمین کی عمر ساڑھے چار ارب سال ہے )NSW یونیورسٹی کے پروفیسر Dr۔Lineweaver نے بتایا کہ اس موضوع پر سب سے پہلی سٹڈی ہم نے کی ہے اس سے پہلے کسی نے حیات کے قابل سیاروں کی تعداد کا اندازہ نہیں لگایا تھا۔ہمارا اندازہ ہے کہ ہماری کہکشاؤں میں کوئی دس فیصد سیارے ایسے ہیں جن میں زندگی وجود میں آکر قائم رہ سکتی ہے۔ایسے سیاروں کی تعداد صرف ہماری کہکشاں میں ۳۰ ملین (ارب) تک پہنچتی ہے۔لہذا بہت سے سیارے ایسے ہوں گے جن میں زندگی کسی نہ کسی شکل میں ضرور پائی جاتی ہوگی۔المسح ( سڈنی ہیرلڈ ۳ ۴ جنوری ۲۰۰۴ء) ” حضرت خلیفہ مسیح الرابع نے اپنی مخزن علوم کتاب Revelation, Rationality "Knowledge and Truth کے صفحہ ۳۲۹ ۳۳۴ پر قرآن کریم کی رو سے زمین و آسمان کے درمیان چلنے پھرنے والی مخلوق کے وجود اور ان کے باہم اجتماع کا ذکر فرمایا ہے۔نیز تخلیق کائنات ، کائنات کا ایک نقطہ سے سفر کا آغاز حیات و ممات کا سلسلہ، کائنات کا وسعت پذیر ہونا ، سورج کا اپنے نظام اور کہکشاں سمیت ) اپنے مستقر کی طرف سفر کرتے کرتے ایک بار پھر ایک نقطہ پر مرکوز ہو جانا، کائنات کی صف کا پیٹا جانا اور تخلیق کے عمل کا دہرایا جانا جیسے علوم کو قرآن کریم سے نکال کر پیش فرمایا ہے یہ مضمون بہت دلچسپ اور ایمان افروز ہے اور مذکورہ کتاب کے کوئی تین سو صفحات پر پھیلا ہوا ہے۔زمین کے باسیوں کا آسمانی کروں میں رہنے والوں کے ساتھ کسی نہ کسی شکل میں رابطہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب وہ بس اتنے ہی دور ہوں کہ چند دنوں ، مہینوں یا سالوں میں پیغام ان تک پہنچ کر واپس بھی آسکے۔ہمارے نظام شمسی سے باہر ہماری کہکشاں (Galaxy) میں جو قریب ترین نظام شمسی ہے جس کے سورج کو (Proxima Centauri) کہتے ہیں وہ چارنوری