مکتوب آسٹریلیا — Page 288
288 Hazrat Musleh Maud, Page XVIII) (دیباچہ تفسیر القرآن انگریزی صفحه ۸۱) حضرت عزیز کی خدمت بلاشبہ عظیم تھی مگر بشری کمزوریوں سے پاک نہ تھی حضرت عزیز نے مٹی ہوئی کتابوں کو اپنے حافظہ کی مدد سے دوبارہ لکھ کر اپنی قوم کی بے بہا خدمت کی ان سے ایک صدی پہلے ایک ظالم بادشاہ نے بائبل کی سب کتابوں کو جلا کر راکھ کر دیا تھا اور اب اسرائیلیوں کے ہاتھ میں کچھ بھی نہ رہا تھا۔لیکن وہ بہر حال انسان تھے اور بشری کمزوریاں نسیان وغیرہ بھی ان کے ساتھ لگی ہوئی تھیں اس لئے بہت سی غلطیاں ان میں راہ پاگئیں۔پھر موجودہ بائیبل کے متعلق یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ یہ یقیناً وہی ہے جو حضرت عزیر نے لکھی تھیں ہوسکتا ہے بعد میں ان میں تحریف ہوتی رہی ہو۔ان کتابوں میں غلطیاں یقیناً داخل ہو گئی ہیں جن کی وجہ سے وہ قابل اعتبار نہیں رہیں۔بطور نمونہ چند فروگزاشتوں کا ذکر یہاں مناسب ہوگا۔(حوالے King James Version سے ہیں) (۱) ابراہیم کو خدا کا نام ” یہوواہ معلوم نہ تھا (6:3 8 Exodus) ابراہیم کو خدا کا یہ نام معلوم تھا اسی لئے ایک جگہ کا نام انہوں نے ” یہوواہ جیرے رکھا (22:14 Genesis) (۲) ہارون نے جہاں وفات پائی اس جگہ کا نام مائنٹ ”Hor‘ تھا۔(Numbers 33:38) ہارون نے جس جگہ وفات پائی اس کا نام ”Mosera “ تھا۔(۳) جیسی (Jesse) کے بچوں کی تعداد آٹھ تھی۔جیسی کے بچوں کی تعداد سات تھی۔(Deut 10:6) (1۔Sameul 61:10۔11) (1۔Chronicels 2:13۔15) (۴) مائیکل (MICHAL) کا کوئی بچہ نہ تھا۔(2۔Samuels 6:23)