مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 287 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 287

287 حضرت عزیز جنہوں نے بائبل کو دوبارہ یادداشت کی بنا پر لکھا ان کو خود بھی بعض مقامات کے درست ہونے کے بارہ میں شک تھا۔چنانچہ انہوں نے ایسے مقامات پر نشان لگا دیا تھا اور کہا تھا که اگر ایلیا ( Eah) بنی ان مقامات کو درست قرار دیں تو انہیں رہنے دیں ورنہ کتابوں میں سے نکال دیں۔اس کا ذکر Jewish Encyclopedia میں ملتا ہے جس کا حوالہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے دیباچہ تفسیر القرآن انگریزی میں دیا ہے۔آپ فرماتے ہیں: ( ترجمہ از انگریزی ) اسرائیل کی تاریخ سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ نبو کد نضر کے وقت میں اسرائیلی کتب جلا دی گئی تھیں اور ضائع کر دی گئی تھیں۔ان کو عز را نبی نے دوبارہ لکھا تھا اور عزرا کے متعلق ہم یہودی لٹریچر میں یہ پڑھتے ہیں : ”یہ بھول چکی تھیں اور عزرا نے انہیں دوبارہ بحال کیا۔“ اور پھر لکھا ہے: جیوئش انسائیکلو پیڈیا جلد ۵ صفحه ۳۲۲) عزرا نے کتب خمسہ (Pentateuch) کے متن کو دوبارہ رائج کیا اور اس میں آشودی اور مربع رسم الخط کو داخل کیا (ایضاً)۔پھر ہم پڑھتے ہیں: انہوں (عزرا) نے متن کے بعض الفاظ کے درست ہونے پر شک کا اظہار کرتے ہوئے ان پر نقطے ڈال دیئے تھے اور کہا تھا کہ اگر ایلیا (Elijah) ان کو منظور کر دیں تو نقطوں کو نظر انداز کر دیں اور اگر وہ نا منظور کریں تو مشکوک الفاظ کو متن سے خارج کر دیں (ایضاً) ان حوالوں سے واضح ہوتا ہے کہ تو رات جس صورت میں بھی اس وقت تھی وہ بہت غیر یقینی اور نا قابل اعتبار کتاب تھی خواہ وہ اس شکل میں ہو جو اسے عزرا نے دی یا جس صورت میں پہلے وقتوں سے چلی آتی تھی (Genaral Introdaction of Holy Quran by "