مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 203 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 203

203 مختلف پرندوں کو چھوڑا تا کہ وہ پتہ لے کر آئیں کہ کہیں زمین بھی نظر آتی ہے یا نہیں۔آخر میں انہوں نے کبوتری چھوڑی جب وہ واپس آئی تو زیتون کی ایک تازہ پتی اس کے منہ میں تھی جس سے حضرت نوح نے سمجھ لیا کہ اب خدا کی طرف سے فضل نازل ہو گیا ہے اور زمین نظر آنے لگ گئی ہے۔چنانچہ وہ اپنے قافلہ سمیت وہاں اتر گئے۔“ قرآن کریم میں اللہ کے نور کی جو مثال دی گئی ہے اس میں جس چراغ کا ذکر کیا گیا ہے وہ بھی زیتون کے بابرکت درخت سے روشن کیا گیا بتایا گیا ہے جو نہ شرقی ہے نہ غربی۔اس طرح نور محمدی گو درخت زیتون سے روشن قرار دے کر اس سے مشابہت دی گئی ہے۔گویا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نور ایسا ہے جو ظاہری و باطنی ، جسمانی وروحانی صحت کے لئے بھی اچھا ہے۔روحانی لذت کا سر چشمہ اور شمع ہدایت کی جان ہے۔صبر و استقلال اور مجاہدہ کی خاص شان کا مالک ہے اور صلح اور امن اور رحم کا منبع ہے۔آج دنیا امن امن پکارتی ہے حقیقی امن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں ہی مل سکتا ہے اور آخری فتح کا تاج بھی آپ ہی کے مبارک سر کے لئے مقدر کیا جا چکا ہے۔(الفضل اند نیشنل)