مکتوب آسٹریلیا — Page 204
204 جونکوں کا طب جدید میں استعمال دو ہزار سال سے بھی زیادہ عرصہ سے اطباء کئی بیماریوں کے علاج کے لئے جونکوں کا استعمال کرتے رہے۔جونکیں جسم کے متاثرہ حصہ سے خون چوستی ہیں اور اس حد تک خون پیتی ہیں کہ ان کا اپنا حجم پانچ گنا بڑھ جاتا ہے اور سیر ہونے کے بعد گر جاتی ہیں۔گزشتہ صدی میں وجع المفاصل (Gout) موٹاپا۔(Obesity) اور کالی کھانسی (Whooping Cough) کے علاج کے طور پر جونکیں لگوانا عام تھا۔جونکیں طب جدید میں بھی استعمال ہوتی ہیں اور سڈنی کے اور پول ہاسپٹل میں اور سینٹ ونسنت ہسپتال میں با قاعدہ پالی جاتی ہیں۔لیکن فرق یہ پڑا ہے کہ یہ جونکیں خاص اس غرض کے لئے تیار کی جاتی ہیں۔ان جونکوں میں ایسی دوائیں شامل ہیں جو درد کو روکتی ہیں۔خون منجمد نہیں ہونے دیتیں تا کہ جونک اترنے کے بعد بھی خون جاری رہے اور خون کو جاری کرتی ہیں۔پچھلے دنوں سڈنی میں ایک بچی کا ہاتھ دروازے میں آگیا انگلی کا ایک حصہ کٹ کر علیحدہ ہو گیا۔ڈاکٹروں نے آپریشن سے انگلی کو ٹوٹے ہوئے حصہ کو دوبارہ جوڑ تو دیا لیکن اس کی رگیں اتنی بار یک تھیں کہ ان کا جوڑ نا اوران میں دوران خون کا قائم رکھنا نہایت مشکل تھا چنانچہ یہ کام لوسی کے سپر د کیا گیا جو ایک نھی جونک کا نام ہے اس کے خون چوسنے سے اور ان دواؤں کی مدد سے جو اس کے جسم میں شامل تھیں تمام چھوٹی بڑی رگوں میں خون جاری رہا اور بچی کی انگلی بالکل جڑ گئی۔ڈاکٹر کہتے ہیں اگر جونک لوسی مدد نہ کرتی تو بچی صوفی کی انگلی