مکتوب آسٹریلیا — Page 9
9 زیادہ عرصہ چلے گی۔اخباری نمائندے نے ڈاکٹر راتھ سے سوال کیا۔کہ چلو مان لیا کہ جن جانوروں پر آپ نے تجربے کئے ہیں وہ غذا کی کمی (Malnutrition) کا شکار نہیں ہوئے بلکہ تندرست ہی رہے لیکن کیا بھوک کی وجہ سے ان کو ہر وقت کھانے کی اشتہا نہیں لگی رہتی تھی اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تھوڑا بہت بھوکے تو وہ ضرور رہتے ہونگے لیکن بھوکا رہنا بری بات نہیں۔کئی تہذیبوں میں یہ بات عام کہی جاتی ہے کہ جب تمہارا پیٹ اسی فیصد ( ۸۰ ) بھر جائے تو دستر خوان سے اٹھ کھڑے ہوا گر چہ کچھ اور بھی کھاسکتے ہو۔بھوک رکھ کر کھانے کی تحقیق ہمارے لئے نئی نہیں۔ہمارے آقا حضرت محمد مصطفی علی نے کبھی پیٹ بھر کر کھانا نہ کھایا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت سے کہ آنحضرت ﷺ کے خاندان نے کبھی جو کی روٹی دو دن مسلسل پیٹ بھر کر نہ کھائی یہاں تک کہ آپ وفات پاگئے۔( بخاری ومسلم - از ریاض الصالحین روایت نمبر ۴۹۴) نیز حضرت مقداد بن معدی کرب روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ کو فرماتے سنا کہ کوئی آدمی اپنے کسی برتن کو بھی اس بری طرح نہیں بھرتا جس طرح اپنے پیٹ کو بھرتا ہے۔وہ چند لقمے جو انسان کی کمر کو سیدھا رکھ سکیں وہ اس کے لئے کافی ہیں لیکن اگر اس نے ضرور ہی زیادہ کھانا ہے تو اسے چاہئے کہ پیٹ کے تیسرے حصے کو کھانے سے اور تیسرے حصے کو پانی سے بھرے اور بقیہ تیسرے حصے کو آسانی سے سانس لینے کے لئے فارغ رکھے۔“ (ترمندی روایت ۵۱۹ ایضاً) اسی طرح حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا دوکا کھانا تین کیلئے کافی ہوتا ہے اور تین کا کھانا چار کے لئے کافی ہوتا ہے۔( بخاری مسلم روایت ۵۶۸ ایضاً ) اس حدیث پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آدمی کا پیٹ جب کھانے پانی سے ستر پچھتر فیصد پر ہو جائے تو وہ اس کے لئے کافی ہوتا ہے کیونکہ دو کا کھانا جب تین کھائیں گے تو ہر ایک کا پیٹ تقریباً ستر فیصد پر ہو جائے گا اور جب تین کا چار کھائیں گے تو ہر کھانے والے کا پیٹ پچھتر فیصد