مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 8 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 8

8 سڈنی یونیورسٹی کے شعبہ غذا کے پروفیسر سٹوارٹ کو جب اس خبر پر تبصرہ کرنے کو کہا گیا تو انہوں نے کہا کہ تحقیق یقیناً دلچسپ ہے۔لیکن جب میں کھانے کی میز پر بیٹھا ہوں اور مزید کھانا چاہتا ہوں تو یہ ریسرچ میرا ہاتھ نہیں روک سکتی کہ میں اپنی معمول کی خوراک کم کر دوں۔گویا غالب کا سا حال ہے کہ جانتا ہوں ثواب طاعت وزہد پر طبیعت ادھر نہیں آتی مذکورہ بالا تجر بات تو بندروں پر کئے گئے تھے لیکن قبل از میں یہ تجربات چوہوں اور کیڑوں مکوڑوں پر کئے گئے تھے اور ان سے بھی ایسے ہی نتائج حاصل ہوئے تھے۔انسانوں پر ایسے تجربات ابھی نہیں کئے گئے لیکن تجربہ یہی بتاتا ہے کہ جو انسان ضرورت سے زائد کھانا نہیں کھاتے یا کم کر کے حقیقی ضرورت کی سطح پر لے آئے ان کا بلڈ پریشر کم ہوا۔اچھا کولیسٹرل HDL بڑھا اور برا کولیسٹرل گھٹا جس سے دل کے امراض میں کمی ہوئی اور کینسر ہونے کا امکان بھی کم ہوا۔لیکن یہ ہوتا کیسے ہے۔محققین کا خیال ہے کہ اس کا تعلق Matabolism سے ہے۔یعنی غذا میں حراروں (Calories) کو کم کرنے سے جسم کا وہ کیمیائی عمل جو غذا کو قوت میں تبدیل کرتا ہے۔فاضل مواد کو خارج کرتا ہے اور جسم کی نشو ونما کرتا ہے وہ کم حرارے ملنے پر اپنا رخ افزائش Growth and) (Development سے موڑ کر بقا(Survival) کی طرف کر لیتا ہے۔نیز بڑھاپے کا عمل زنگ لگنے کے عمل سے مشابہ ہے۔جسم کے ایسے ایٹم یا ان کا گروپ جو ہمارے سانس کی آکسیجن سے مل کر ( زنگ کی طرح )Oxidise ہوتے ہیں ان کو Free Redicals کہا جاتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ جسم جتنا زیادہ غذا حاصل کرتا ہے اتنے ہی زیادہ جسم میں Free Redicals بنتے ہیں اور اس عمل تکسید (Oxidation) سے بڑھا پا آتا ہے۔طاقتوں کو زوال آتا ہے اور جسم پر جھریاں پڑتی ہیں۔بازار میں اس عمل کو روکنے کے لئے Anti Oxidant وٹامنز وغیرہ کی جو بھرمار ہے اس کے پیچھے یہی سوچ کارفرما ہے۔حقیقت کیا ہے وہ تو ماہرین ہی جانیں۔محققین کہتے ہیں غالباً Matabolism انسانی گاڑی کے گیئر کو جو نشوونما پر ہوتا ہے جب اسے کم حرارے ملتے ہیں تو بقا پر لے آتا ہے جس سے توڑ پھوڑ کم ہوکر عمر بھی ہو جاتی ہے۔لہذا اپنی گاڑی کو بلا وجہ ادھر ادھر نہ بھگائے پھریں۔ضرورت کے مطابق احتیاط سے چلائیں تو گاڑی