مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 424 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 424

424 اور اپنے مفوضہ فرائض کی انجام دہی کے لئے مل کر کام کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے متاثر ہوتے ہیں (جسے دوسرے لفظوں میں جسم و روح کا باہمی تعلق بھی کہا جاتا ہے ) لہذا جب باطنی قلب الہام ووحی کا مہبط بنتا ہے تو ظاہری یا جسمانی قلب بھی اس کی کیفیات سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا اور وہ اپنے اوپر خدا کے کلام کو نازل ہوتا محسوس کرتا ہے۔قرآن کریم باطنی قلوب وغیرہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: کیا وہ زمین میں چل کر نہیں دیکھتے تا کہ ان کو ایسے دل حاصل ہو جائیں (جوان باتوں کو سمجھنے والے ہوں یا کان حاصل ہو جائیں (جوان باتوں کو ) سننے والے ہوں۔کیونکہ اصل بات یہ ہے کہ ظاہری آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ دل جو سینوں میں ہیں وہ اندھے ہوتے ہیں۔“ (الحج: ۴۷) اس آیت سے ظاہر ہے کہ جسمانی دل، آنکھ اور کان وغیرہ کے بالمقابل باطنی و روحانی دل آنکھ اور کان وغیرہ ہوتے ہیں اور جب وہ بیمار اور اندھے ہوتے ہیں تو خدا کی باتوں کے سنے ،ان پر غور وفکر کرنے اور ان کا اثر قبول کرنے کی اہلیت سے محروم ہو جاتے ہیں۔لیکن جب غور و فکر کے نتیجہ میں ان کی فطرتی استعداد میں حالت صحت کی طرف لوٹتی ہیں تو خدا کی باتوں سے فائدہ اٹھانے لگتی ہیں۔ورنہ کیا سینوں کے اندر کے گوشت پوست کے دل بھی کبھی کسی نے آنکھوں کی بیماریوں میں مبتلا ہوتے دیکھتے ہیں۔ہاں قلب ظاہری کے اندر پوشیدہ روحانی دل یا دوسرے لفظوں میں روح انسانی ضرور بیمار بھی ہوتی ہے اور صحتمند بھی وہ تاریک بھی ہوتی ہے اور نورانی بھی پس وہ ایک قلب روحانی ہی تھا جو تمام بنی نوع انسان میں سب سے زیادہ پاک ترین اور نوروں سے پر تھا جس پر قرآن نازل ہوا اور جس کا پر تو جسمانی قلب پر بھی پڑا ( صلی اللہ علیہ وسلم)۔معترض کے سمجھنے کے لئے اتنی بات بھی کافی ہے کہ ہمیشہ سے دل کو اعتقادات اور خیالات کا مرکز سمجھا جاتا رہا ہے اور دماغ کو عقل و شعور کا۔تمام دنیا کی زبانیں اس محاورہ کو استعمال کرتی رہی ہیں بلکہ آج بھی سب اہل زبان اپنی تحریرات میں دل ہی کو عشق ومحبت اور جذبات کامل بیان کرتے ہیں اور اس کے بالمقابل روکنے ٹوکنے والی قوت کو دماغ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے دل و دماغ کی کشمکش