مکتوب آسٹریلیا — Page 423
423 اور اسے دل کے فعل میں تبدیلی پیدا کرنے کے لئے استعمال کر سکتے ہیں۔( ہیرلڈ ، ۲۷ نومبر ۱۹۹۸ء) یہ تحقیق اس لئے اہم ہے کہ اس کے مطابق دل بھی دماغ کی طرح باہر سے براہ راست پیغام وصول کر سکتا ہے اگر چہ دماغ کے مقابلہ میں بہت کم لیکن باقی سائنسدانوں کا خیال ہے کہ شعور مکمل طور پر صرف دماغ میں ہوتا ہے اور کہیں نہیں۔یہ تحقیق اس لحاظ سے بھی دلچسپ ہے کہ اس کے ذریعہ قرآن پر ایک اعتراض کا ایک اور جواب ملتا ہے معترض کہتا تھا کہ قرآن کہتا ہے اور یقینایہ ( قرآن ) رب العلمین خدا کی طرف سے اترا ہے اس کو 66 لے کر ایک امانت دار کلام بردار فرشتہ (جبرائیل ) تیرے دل پر اترا ہے۔“ (الشعراء: ۱۹۳-۱۹۵) یعنی قرآن دل پر اترا ہے جس میں شعور نہیں کیونکہ شعور کا مرکز صرف دماغ ہے۔اب اگر یہ تحقیق درست ثابت ہوتی ہے کہ دل میں بھی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہے تو یہ اعتراض باطل ہو جاتا ہے۔66 لیکن اصل بات یہ ہے کہ عربی میں قلب کے اصل معنے ہیں پھیر نے اور الٹا نے پلٹانے والا اس لئے کہ وہ خون کو پھیرتا ہے یا خیالات کو پھیرتا ہے اور قلب کے معنے کسی چیز کا اصل اور لب یعنی خلاصہ اور روح (Essence) کے بھی ہیں جیسے حدیث میں ہے کہ ہر چیز کا ایک قلب ہے اور قرآن کا قلب دیس“ ہے۔پس قلب سے مراد وہ روحانی قلب ہے جو جسمانی قلب کے بالمقابل واقع ہے انسان کے تمام ظاہری اعضاء و جوارح کے بالمقابل ویسے ہی باطنی اور روحانی اعضاء بھی واقع ہوئے ہیں۔ظاہری آنکھوں کی بصارت کے بالمقابل باطنی آنکھوں کی بصیرت ظاہری کانوں کے پیچھے باطنی سماعت اور ظاہری دل کے اندر روحانی دل اور یہی روحانی دل آنکھیں اور کان ہی آسمان روحانیت کی خبریں سننے کی اہلیت رکھتے ہیں اور یہی ہیں جو جب اس دنیا میں نور بصیرت سے محروم ہوتے ہیں تو دوسرے جہان میں بھی اندھے ہوں گے۔یہ امر ظاہر ہے کہ یہاں جسمانی آنکھیں مراد نہیں لیکن خدا کا نظام ایسا ہے کہ جسمانی وروحانی قلب و دیگر اعضاء علیحدہ علیحدہ اپنے طور پر کام نہیں کر سکتے