مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 420 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 420

420 کیا عجب تو نے ہر اک ذرہ میں رکھے ہیں خواص کون پڑھ سکتا ہے سارا دفتر ان اسرار کا تیری قدرت کا کوئی بھی انتہا پاتا نہیں کس سے کھل سکتا ہے بیچ اس عقدہ دشوار کا حضور انور ایدہ اللہ نے پروفیسر پال ڈیویز کے جود وحوالے اپنی کتاب میں درج فرمائے ہیں ان کا خلاصہ آسان الفاظ میں یہ ہے کہ آج سے کوئی ڈیڑھ صدی پہلے تک سائنس دانوں کو ایسے ہی قوانین قدرت سے واسطہ پڑتا تھا جو ہر وقت یکساں رہتے ہیں اور جیسے زمانہ حال میں لاگو ہیں ویسے ہی زمانہ ماضی میں بھی تھے اور مستقبل میں بھی رہیں گے۔لیکن پھر حرارت اور توانائی کے ایک جسم سے دوسرے جسم میں منتقل ہونے کے مسائل سامنے آئے تو پرانے تصورات یکسر بدل گئے۔اس کا بنیادی اصول بہت سیدھا سادا ہے کہ گرمی صرف گرم جسم سے ٹھنڈے جسم کو منتقل ہوسکتی ہے۔کم گرم جسم سے زیادہ گرم جسم کو منتقل نہیں ہو سکتی۔یعنی گرمی کے انتقال کا رخ تیر کی طرح سیدھا ایک ہی سمت میں سفر کرتا ہے اور اس عمل کو الٹایا نہیں جاسکتا۔اس اصول نے کائنات کے اوپر وقت کے تیر کا نشان ثبت کر دیا ہے۔یعنی یہ کائنات ہمیشہ سے ہی ایسے نہیں ہے جس طرح آج ہے بلکہ ایک خاص وقت سے کائنات کے گرم اجسام نے اپنے ارد گر د گر می بکھیر نی شروع کی تھی اور یہ عمل اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ تمام اجسام کا درجہ حرارت یکساں نہ ہو جائے۔اور جب کائنات کی تمام اشیاء ایک ہی درجہ حرارت پر آجائیں گی۔یعنی اس حالت پر پہنچ جائیں گی جس کو Thermo Dynamic Equilibrium کہا جاتا ہے تو کائنات میں مزید تغیر و تبدل کی گنجائش نہ رہے گی اور اس کی حرارتی موت (Heal Death) واقع ہو جائے گی۔ساری کائنات سالموں یعنی Molecules سے بنی ہے جب اس کی حرارتی موت ہو جائے گی تو ان مالیکولز میں انتہائی ابتری پیدا ہو جائے گی۔وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائیں گے اور ساتھ ہی یہ کائنات مرکز کسی اور حالت میں آجائے گی۔اس حالت کو Emtropy کہا جاتا ہے۔چونکہ کائنات ابھی زندہ ہے ، کائنات کا سفر بھی رواں دواں ہے، سورج چاند ستارے محو گردش ہیں اس لئے اگر چہ Entropy کا عمل آج بھی جاری ہے ، ابھی کامل نہیں ہوا۔پس ثابت ہوا کہ ہماری