مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 389 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 389

389 پیدا کیا گیا اور قرآن بھی کہتا ہے کہ آدم کو مٹی سے پیدا کیا گیا۔لیکن قرآن کریم نے یہ کہہ کر کہ عیسی علیہ السلام کو بھی مٹی سے پیدا کیا گیا اور اے انسا نو تم سب کو بھی مٹی سے پیدا کیا گیا، آدم کی اس بارہ میں تخصیص ختم کر دی ہے اور یوں وضاحت بھی کر دی ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کیا گیا ہے۔یعنی وہی عناصر جو مٹی میں ہوتے ہیں وہ سبزیوں ، پھلوں ، اناجوں، دودھ گوشت وغیرہ کے توسط سے کئی حالتیں بدل کر انسان کے جسم کا حصہ بنتے ہیں۔اس طرح بائبل کی اصلاح بھی کر دی کہ آدم کو مٹی سے پیدا کرنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بغیر کسی تغیر وتبدل کے مٹی سے ہی پیدا کیا گیا تھا اور لہذاوہ پہلا انسان تھا۔قرآن کریم نے عیسی علیہ السلام کے بارہ میں فرمایا: عیسی کا حال اللہ کے نزدیک یقینا آدم کے حال کی طرح ہے اسے ( یعنی آدم کو ) اس نے خشک مٹی سے پیدا کیا، پھر اس کے متعلق کہا کہ وجود میں آجا تو وہ وجود میں آنے لگا۔“ (آل عمران: ۶۰ ) نیز تمام انسانوں کو مٹی سے پیدا کرنے کے بارہ میں فرمایا اور اس کے نشانات میں سے ایک نشان ) یہ بھی ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا۔پھر اس پیدائش کے نتیجہ میں تم بشر بن جاتے ہواور ( تمام زمین میں ) پھیل جاتے ہو۔(الروم :۲۱) الغرض آدم بھی اسی طرح مٹی سے پیدا ہوئے تھے جس طرح ہم سب اور عیسی پیدا ہوئے تھے لہذا وہ پہلے انسان نہ تھے۔اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں انسان کے زمین میں پھیل جانے کا ذکر بھی کیا ہے۔مذکورہ بالا تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان ارتقاء کے ابتدائی مراحل میں ہی دنیا میں پھیل گیا تھا۔نوع انسانی کا ارتقاء بطور ایک درخت کے ہوا جو ایک ہی جڑ سے نکلا اور جس کی شاخیں در شاخیں اور پھر آگے ان کی شاخیں دنیا کے مختلف حصوں میں پھیل گئیں۔انسان کی تخلیق کے بعد اللہ نے اس کو مناسب حال قو تیں عطا کیں اور ان کے مناسب حال ہدایت کا سامان کیا۔چنانچہ ہر شاخ درشاخ میں جو نہی انسان ، جسمانی، ذہنی ، معاشرتی اور روحانی لحاظ سے اس قابل ہوا کہ خدا کی طرف