مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 336 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 336

336 علمی ذوق بھی ایسا بدل چکا ہے کہ وہ فصل اسی موسم کے ساتھ خاص تھی۔اللہ کی حکمت ہے کہ بدلتی ہوئی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے ایک نئی نسل میدان میں آچکی ہے گویا موسم کے ساتھ ساتھ بادہ وساقی بھی بدلتے رہتے ہیں۔لیکن دل کا کیا علاج وہ تو اب بھی کبھی چپکے چپکے پکارتا ہے: جو بادہ کش تھے پرانے وہ اٹھتے جاتے ہیں کہیں سے آب بقائے دوام لاساقی حضرت ابوالعطاء صاحب نے ۱۹۳۰ء میں تفہیمات ربانیہ تصنیف فرمائی تھی جو بلاشبہ ایک بیش بہا علمی خزانہ ہے اور آپ کے علم و فضل پر دال ہے۔جب آپ نے یہ کتاب تصنیف فرمائی تو اس وقت آپ ایک ابھرتے ہوئے نوجوان عالم تھے۔حیرت ہوتی ہے کہ وہ۲۶ سالہ نو جوان کس پا یہ کا محقق اور ذہین وفطین عالم ہو گا جس کے قلم سے ایسی عظیم کتاب منصہ شہود پر آئی۔پھر لوگ جب کتابیں لکھتے ہیں تو ساتھ نوٹ دے دیتے ہیں کہ کتاب کا کوئی حصہ مصنف کی اجازت کے بغیر شائع نہیں کیا جاسکتا۔ایک نمایاں چوکھنے کے اندر کاپی رائٹ کی صورت میں مصنف کا یہ حق دنیا بھر میں تسلیم کیا جاتا ہے۔مگر حضرت مولانا نے کتاب کے آخر میں ”ضروری اعلان“ کے عنوان سے لکھا: د تفہیمات ربانیہ سلسلہ کی امانت ہے بے شک یہ میری تصنیف ہے مگر میں خود سلسلہ کا ادنیٰ خادم ہوں تفہیمات ربانیہ کو کوئی جماعت کوئی فرد بلکہ میری اولا د بھی خلیفہ وقت کے مقررہ کردہ نظام کی اجازت سے طبع کرسکتی ہے۔والله الموفق۔(مصنف)۔یقیناً جب تک ہدایت کے متلاشی اس کتاب سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے صدقہ جاریہ کے طور پر اس کا ثواب آپ کو بھی پہنچتا رہے گا جو جنت میں آپ کے درجات کو بلند کرنے کا موجب ہوگا انشاء اللہ۔حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب سے ملنے کا مجھے بارہا موقع ملا۔ایک دفعہ مجھے ان کی میزبانی کا شرف بھی حاصل ہوا۔خدا تعالیٰ نے ظاہری اور باطنی حسن آپ کو وافر عطا فرمایا ہوا تھا۔نیکی تقویٰ اور علم وفضل کے ساتھ ساتھ آپ بہت ہمدرد اور منکسر المزاج انسان تھے۔میں نے دیکھا کہ آپ اپنے ملنے والوں میں ذاتی دلچسپی لیتے تھے اور تعلقات محبت خوب نبھاتے تھے۔زاہد و عابد تو بہت