مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 335 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 335

335 حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کی کچھ یادیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اللہ سے خبر پا کر یہ پیشگوئی فرمائی تھی کہ میرے فرقہ کے لوگ اس قدر علم اور معرفت میں کمال حاصل کریں گے کہ اپنی سچائی کے نور اور اپنے دلائل اور نشانوں کی رو سے سب کا منہ بند کر دیں گے۔ہم نے اس پیشگوئی کو اپنی آنکھوں سے پورا ہوتے دیکھا ہے۔ہم نے خلفاء مسیح موعود علیہ السلام کے ارد گر دا ایسے عظیم علماء اور فضلاء کو حصار کی طرح کھڑے دیکھا ہے جو جماعت کے خلاف اٹھنے والے اعتراضات کے تیروں کو اس شان سے اپنے سینوں پر لیتے تھے اور ان کو یوں لوٹاتے تھے کہ دل عش عش کر اٹھتا تھا۔وہ دنیا دار مناظر نہ تھے بلکہ اولیاء الرحمن میں سے تھے اور خدا ان کی دعائیں عرش پر سنتا تھا۔ایسے ہی وجودوں میں ایک حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب بھی تھے۔خاکسار کو ان سے محبت تھی اور جب بھی موقع ملتا ان کی ملاقات سے شاد کام ہوتا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسا ملکہ عطا فر مایا تھا کہ مشکل سے مشکل مسائل کو علماء وعوام دونوں کے لئے عام فہم اور مسکت انداز میں حل فرما دیتے۔ان کی تحریر سے باریک بینی اور ذہانت پھوٹتی تھی اور مخالفوں کے اعتراضات کے جواب میں بعض اوقات چلتے چلتے ایسی بات کہہ جاتے جو متعین ہونے کے باوجود ایسی دلچسپ ہوتی کہ پڑھتے ہوئے بے اختیار مسکراہٹ بکھیر جاتی۔ماہنامہ ”الفرقان“ کے مضامین گواہ ہیں کہ پرانے مسائل کو نئے انداز میں پیش کرنا گویا آپ پر ختم تھا الفرقان“ کے ٹھوس علمی مضامین ایک خاص شان کے حامل ہوتے تھے۔لیکن اب تو لگتا ہے کہ دنیا کا