مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 337 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 337

337 تھے لیکن خشک اور تنگ نظر ہرگز نہ تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ اور آگے ان سے اکتساب فیض کرنے والے تقریباً سبھی تہجد گزار تھے۔حتی کہ وہ سفروں میں بھی تہجد کو نہیں چھوڑا کرتے تھے جب کہ سفروں میں فرض نماز بھی قصر کی جاتی ہے۔191 ء میں حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب اور حضرت گیانی واحد حسین صاحب دورہ پر سیالکوٹ تشریف لائے۔رات کا کھانا محترم چوہدری نذیر احمد باجوہ صاحب ایڈوکیٹ مرحوم کے ہاں تھا۔جنہوں نے بہت سے معززین شہر کو کھانے پر مدعو کیا ہوا تھا کھانے کے دوران بہت دلچسپ گفتگو ہوتی رہی۔بعد میں حضرت صاحبزادہ صاحب نے تو محترم باجوہ صاحب کے ہاں قیام فرمایا اور حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب اور حضرت گیانی صاحب کی میزبانی کا شرف مجھے حاصل ہوا۔( میں اس زمانہ میں ایس ڈی اوالیکڑانک سٹی واپڈا سیالکوٹ تھا ) ان دونوں بزرگوں کی طبیعت میں پاک مزاح بھی بہت تھا۔خاکساران کی گفتگو سے بہت محظوظ ہوا۔رات کے آخری حصہ میں جب میری آنکھ کھلی تو میں نے دیکھا کہ دونوں بزرگ تہجد کی نماز ادا کر رہے تھے۔اس سے پہلے ا۸۵۹ء میں جب خاکسارایس ڈی او اوکاڑہ تھا تو حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب کی میزبانی کا شرف بھی مجھے حاصل ہوا تھا۔ان کے ساتھ بھی میرا ایسا ہی تجربہ ہوا گرمیوں کا موسم تھا رات کے پچھلے پہر جب میری آنکھ کھلی تو میں نے دیکھا کہ حضرت مولا نا صاحب کوٹھی کے لان میں ایک چادر بچھا کر تہجد کی نماز ادا کر رہے تھے۔یہ واقعات میں نے اس لئے عرض کئے ہیں کہ ہماری موجودہ اور آئندہ نسلوں کو پتہ لگے کہ ہمارے بزرگ کتنے عبادت گزار تھے۔ہم نے اپنے والدین کو بھی بچپن سے تہجد پڑھتے دیکھا اور بزرگوں کو بھی۔حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کے متعلق یہی سنا ہے کہ رات کے آخری حصہ میں اپنے مولا کے حضور اپنی حاجتیں پیش کرتے اور وہ بار ہا معجزانہ طور پر پوری فرما دیتا۔حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب میں دلجوئی کا رنگ بھی بہت نمایاں تھا۔ایک بار میرے ایک عزیز ربوہ نکاح کی غرض سے آئے ہوئے تھے اتفاق سے اس روز مجلس مشاورت کا آغاز ہورہا تھا اور کبھی بزرگ اس سلسلہ میں بہت مصروف تھے۔مصروف تو حضرت مولوی صاحب بھی بہت ہوں گے۔مگر جب میں نے جمعہ کی نماز کے بعد اعلان نکاح کی درخواست کی تو آپ فورا تیار ہو گئے اور مسجد