مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 257 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 257

257 ریسرچ سے پتہ لگتا ہے کہ وہ جن کو یونیورسٹی کی آزادی نے بگاڑ دیا تھا شادی کے بندھنوں نے انہیں سنوار دیا۔منگنی ، شادی اور بچوں کی پیدائش کے بعد اکثر نو جوان منشی اشیاء اور کثرت شراب نوشی سے بچنے لگے۔ایسے لوگوں کی تعداد میں نمایاں طور پر کمی حیران کن تھی۔چنانچہ اس کا نام انہوں نے "Marriage Effect" یا شادی کا اثر رکھا ہے۔شادی کے بعد کوکین اور میر یوآنا Cocain (and Marijuana کا استعمال تو بہت ہی کم پایا گیا۔یو نیورسٹی کے زمانہ میں بھی شادی کا اثر عادات پر نمایاں تھا۔جہاں ۴۱ فیصد غیر شادی شدہ طلباء وطالبات ڈرگز استعمال کرتے ہیں وہاں ایسے شادی شدہ افراد کی تعداد ۲۸ فیصد ہے البتہ سگرٹ کا معاملہ مختلف ہے۔وہ ایسا ڈھیٹ نکلا کہ اس نے شادی کا بھی کوئی اثر قبول نہیں کیا۔گویا شادی نے بڑے بڑے ٹیڑھے چلنے والوں کو سیدھا کر دیا۔بقول حالی۔اے عشق تو نے سارے کس بل دئے نکال مدت سے آرزو تھی کہ سیدھا کرے کوئی لیکن وہی لوگ جو شادی کے بعد سدھر گئے تھے وہ طلاق کے بعد پھر اپنی پرانی عادات کی طرف لوٹ گئے۔ہر گھر ایک اینٹ کی طرح ہے جس سے معاشرہ کی عمارت تعمیر ہوتی ہے۔اینٹیں کچی ہونگی تو مکان کچا ہوگا۔پختہ ہوگی تو پختہ ہو گا۔گھر کا ماحول خوشگوار اور سکون آور ہوگا تو مجموعی طور پر معاشرہ بھی خوشگوار اور سکون آور ہو گات لہذا معاشرہ کو خوشگوار بنانے میں خوشگوار گھریلو زندگی اور حلال چیزوں میں سے سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز یعنی طلاق سے بچنے کا کردار بہت نمایاں ہے۔۔۔آزادی اللہ کی بڑی نعمت ہے بشرطیکہ اسے حدود کے اندر رہتے ہوئے استعمال کیا جائے۔احساس ذمہ داری ایک حد تک انسان کو حد اعتدال میں رکھتا ہے لیکن اگر خدا کا خوف نہ ہو تو یہ کھوکھلی ریت کی دیوار کی طرح ہے جس پر جب ذرا دباؤ پڑے تو ٹوٹ جائے۔سچی بات یہی ہے کہ۔ہراک نیکی کی جڑ یہ اتقا ہے اگر یہ جڑ رہی سب کچھ رہا ہے ( الفضل انٹر نیشنل 23۔5۔97)