مکتوب آسٹریلیا — Page 256
256 یونیورسٹی کے بگاڑے ہوئے شادی نے سنوار دیئے واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکہ کے مچیکن یونیورسٹی (Uni۔of Michigan) کے شعبہ سوشل ریسرچ نے ۳۳۰۰۰ نو جوان طلباء وطالبات پر مبنی ایک مطالعاتی رپورٹ جاری کی ہے جس پر اٹھارہ سال تک ۱۹۷۶ء اور ۱۹۹۴ء کے درمیان کام ہوتا رہا۔یہ رپورٹ اس لحاظ سے دلچسپ ہے کہ انسانی نفسیات پر جو اثرات یو نیورسٹی کے زمانہ کی بے مہابہ آزادی ، شادی اور طلاق کے مرتب ہوتے ہیں ان کا اعداد و شمار کی روشنی میں جائزہ لیا گیا ہے۔یو نیورسٹی کے زمانہ میں طلباء وطالبات کو بالغ ذمہ دار افراد سمجھا جاتا ہے اور ان کو اپنے افعال وکردار کے معاملہ میں پوری آزادی دی جاتی ہے اور ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ بھی پوری ذمہ داری سے آزادی کے حق کو استعمال کریں گے۔لیکن رپورٹ کے مطابق اکثر طلباء جو اپنے گھروں کو چھوڑ کر یونیورسٹیوں میں پڑھنے کے لئے جاتے ہیں وہ آوارگی کا شکار ہو جاتے ہیں۔وہ کثرت شراب نوشی ، سگریٹ نوشی بلکہ ناجائز نشہ آور اشیاء کے استعمال کی بد عادات میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔اپنے امتحانوں میں وہ پاس ہوتے ہیں یا نہیں اس کا تو رپورٹ میں کوئی ذکر نہیں لیکن یہ تاثر ضرور ملتا ہے کہ ان میں سے اکثر آزادی اور ذمہ داری کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے امتحان میں فیل ہو جاتے ہیں۔شاید ایسے ہی کالجوں کے بارہ میں اکبرالہ آبادی نے کہا تھا: یوں قتل پہ بچوں کے وہ بدنام نہ ہوتا افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی