مکتوب آسٹریلیا — Page 251
251 ایٹمی کلاک کو آسمانی کلاک سے ملانا ایٹمی کلاک گو ہزاروں سالوں میں ایک سیکنڈ کا فرق ڈالتا ہے لیکن ہمارے دن رات اور سال وغیرہ تو نظام شمسی کے تابع ہیں اور مذکورہ بالا وجوہات کی بناء پر قدرتی وقت میں سال بھر میں ایک آدھ سیکنڈ کا فرق پڑ سکتا ہے۔ہم نظام شمسی اور اس کے اوقات کے پابند ہیں اور یہ انسانوں کے لئے بنیادی وقت ہے جس سے وہ مستغنی نہیں ہو سکتے۔چنانچہ ایٹمی کلاک کو ہر سال نظام شمسی کے کلاک کے مطابق کرنے کے لئے ایک آدھ سیکنڈ آگے پیچھے کرنا پڑتا ہے۔دونوں اوقات کو ایک کر کے جو ٹائم نکلتا ہے اسے UTC کہا جاتا ہے۔ایٹمی کلاک کے وقت کو کتنا آگے پیچھے کرنا ہے اس کا فیصلہ فرانس میں قائم ایک بین الاقوامی اداره بنام Intemational Eargh Rotation Service کرتا ہے۔۳۰ رجون ۱۹۹۷ء کو رات بارہ بجے ، جی ایم ٹی ، ٹائم کو ایک سیکنڈ آگے کیا گیا تھا اور عین اس وقت دنیا بھر کی گھڑیوں کو بھی اس کے مطابق آگے کیا گیا تھا۔اس وقت آسٹریلیا میں اگلے روز کے صبح کے دس بجے تھے اس وقت ٹیلیفون کمپنی نے 9 بج کر ۵۹ منٹ اور ۶۱ سیکنڈ کا وقت بتایا۔گزشتہ ۲۵ سال میں اس طرح ۲۱ سیکنڈ بڑھائے جاچکے ہیں۔ابھی تک کبھی کم نہیں کئے گئے اور نہ مستقبل قریب میں ایسا امکان ہے۔قصہ مختصر یہ کہ تمام گھڑیاں سورج اور چاند کے ساتھ زمین کی نسبتی رفتار کے تابع ہی کرنی پڑتی ہیں اور یہ بات قرآن کریم میں بھی بتائی گئی تھی کہ الشَّمسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَان (الرحمن: ٦)