مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 252 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 252

252 یعنی سورج اور چاند ایک مقررہ قاعدہ اور حساب کے تحت چل رہے ہیں۔نیز ایک اور مقام پر فرمایا فَالِقُ الْإِصْبَاحٍ وَجَعَلَ الَّيْلَ سَكَناً وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسُبَاناً ذَالِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزُ الْعَلِيمُ (الانعام: ۹۷) یعنی وہ (خدا) صبح کو ظاہر کرنے والا ہے اور اس نے رات کو باعث آرام اور سورج اور چاند کو ذریعہ حساب بنایا ہے۔یہ اندازہ اس کا ہے جو غالب ہے (اور) بہت جاننے والا ہے۔پس انسانوں کو اپنی سب گھڑیاں بالآخر نظام شمسی یعنی سورج اور چاند وغیرہ کے حساب کے ماتحت ہی کرنی پڑتی ہیں جیسا کہ خدا نے فرمایا۔صدق الله العظيم (الفضل انٹر نیشنل 14۔8۔98)