مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 217 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 217

217 سٹائن اور پیدا ہو جائیں تو پھر دنیا میں کیسا انقلاب آجائے گا۔لیکن بالفرض اگر کوئی انسان دوبارہ بھی اپنے پہلے قومی کے ساتھ جنم لے لے تو ضروری نہیں کہ وہ ویسا ہی بن جائے جیسے پہلے تھا۔وہ پہلے سے بہتر بھی بن سکتا ہے اور خراب بھی۔والدین، اساتذہ تعلیم و تربیت ، ماحول، ساتھی اور ترقی کے مواقع تبدیل ہوتے رہتے ہیں جو انسان کو کچھ کا کچھ بنادیتے ہیں۔دو جڑواں بھائی اگر ایک جیسی قابلیت بھی رکھتے ہوں تو ضروری نہیں کہ زندگی میں ایک جیسا مقام حاصل کر لیں۔بسا اوقات ایک دوسرے سے محنت اور سازگار ماحول کی وجہ سے کہیں آگے نکل جاتا ہے۔لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر انسانوں کے جڑواں اس طرح تیار ہونے لگے تو اس سے گھمبیر معاشرتی اور اخلاقی مسائل جنم لے سکتے ہیں۔اسی لئے ویٹیکن نے بھی اس کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ شادی کے علاوہ کسی طریق سے بھی انسانی پیدائش خدائی منصوبہ کے خلاف ہے۔قرآن کریم تو چودہ سو سال پہلے ہی خدا کی مخلوق میں تبدیلی کی نہ صرف خبر دے چکا ہے بلکہ اسے شیطانی فعل قرار دے چکا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ خلق یا جینز کی تبدیلی جسے آج کل سائنسی زبان میں Genetic Engineering کہتے ہیں اس کے ذریعہ ضرور کچھ شیطان کی مرضی کے کام بھی کئے جائیں گے۔(النساء: ۱۲۰) خدا نے انسان کو زمین میں اپنا خلیفہ بنایا ہے اور اسے اپنی شکل پر پیدا کیا ہے۔امکانی طور پر اگر انسان جسم کے ایک ذرہ سے ہو بہو اس جیسا اور انسان خدائی قوانین کو بروئے کار لا کر پیدا کرسکتا ہے تو خدا خودایسا کیوں نہیں کر سکتا۔ضرور کر سکتا ہے۔اگر چہ اگلا جہان مادی نہیں بلکہ روحانی ہے لیکن قرآن وحدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مرنے کے بعد بھی انسان کا کسی نہ کسی رنگ میں تعلق اس کے جسم کے ذرات سے بھی رہتا ہے۔یہ خدائی اسرار میں سے ہے اور انسانی عقل اس کی کہنہ تک نہیں پہنچ سکتی۔خدا تعالیٰ دوسری پیدائش کے بارہ میں فرماتا ہے: (انسان ) اپنی پیدائش کو بھول جاتا ہے اور کہنے لگتا ہے کہ جب ہڈیاں گل سڑ جائیں گی تو ان کو بھلا کون زندہ کرے گا۔تو کہہ دے کہ ایسی ہڈیوں کو وہی زندہ کرے گا جس نے ان کو پہلی دفعہ پیدا کیا تھا اور وہ ہر مخلوق کی حالت