مجالس عرفان

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 57 of 142

مجالس عرفان — Page 57

کہ ایک بہت زبر دست تلوار کا لڑنے والا نامی غرب جو کافر تھامسلمان نہیں تھا۔وہ آیا ہے اور کہتا ہے میں تمہاری طرف سے ہو کہ کفار مکہ کے خلاف لڑوں گا۔عام رد عمل یہ تھا کہ بہت خوشی کی بات ہے۔ہم میں ایک اور طاقت آجائے گی۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان استغناء دیکھیں اور مقام تو کل دیکھیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ادنی سا بھی اقتدار نہیں فرمایا۔فرمایا ، مجھے تو کسی مشرک کی مدد کی ضرورت نہیں۔میرا تو کل تو اپنے رب پر ہے اس لئے اس کو کہہ دو میں تمہیں اجازت نہیں دیتا۔اس کو جب یہ بات پہنچی تو اس نے کہا میں مسلمان ہوتا ہوں۔اب بظاہر وہ کوئی اعتبار والا وقت نہیں تھا۔پہلے اصرار کر رہا ہے کہ میں بحثیت مشترک لڑوں گا۔کیونکہ اس نے اپنے کچھ بدلے لیتے تھے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہہ سکتے تھے کہ نہیں تمہارا یہ موقع نہیں ہے۔میں تم یہ اعتبار نہیں کرتا۔لیکن فور تسلیم کر لیا۔تم کہتے ہو کہ میں مسلمان ہوگیا ہوں۔تو میں مانتا ہوں کہ مسلمان ہو۔اس لئے کہ یہ فیصلہ خدا نے کرنا ہے۔کسی بندے کے ہاتھ میں خدا نے یہ تقدیر دی ہی نہیں کہ وہ بیٹھے اور فیصلہ کرے۔یا قیامت کے دن کوئی جیوری بیٹھی ہو گی اللہ تعالے کے ساتھ علماء کی جو فیصلے کریں گے کہ نہیں میں سلمان ہے ، یہ غیر مسلم ہے۔صرف خدا کی ذات ہے اور کوئی ذات نہیں ہے۔جو فیصلہ کر سکتی ہے ، جو دلوں کا حال جانتی ہے۔اسی لئے نہ قرآن نے حق دیا ہے کسی کو غیر مسلم قرار دینے کا نہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے حق دیا ، نہ ساری زندگی یہ حق استعمال کیا۔تو یہ فیصلہ ڈیمو کریسی کے نام پر اگر کسی کو قبول ہے۔تو شوق سے کرے۔ہم تو تاریخ مذہب سے یہ فیصلہ دیتے ہیں اور اس کے سوا تاریخ مذہب کا کوئی فیصلہ ہی نہیں ہے۔