مجالس عرفان

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 56 of 142

مجالس عرفان — Page 56

۵۶ شان سے بنایا کہ یا رسول اللہ ! آج اس طرح واقعہ ہوا۔اس طرح میں نے اس کو پچھاڑا اور آخر میں کہتا تھا میں مسلمان ہوں۔میں نے کہا مجھے پتہ ہے تم جھوٹ بول رہے ہو اور میں نے اس کو ختم کر دیا۔وہ کہتے ہیں کہ میں نے ساری زندگی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنا پریشان نہیں دیکھا چہر قتا اُٹھا اور بار بارہ کہنے لگے۔هَلْ شَعَتَتَ قَلْبَهُ - هَلْ شَعَمتَ قَلْبَهُ۔کاش تم نے سینہ پھاڑ کے دیکھا ہوتا سینہ کیوں نہیں چاک کر لیا۔معلوم تو کر لیتا سینہ کھول کہ کہ اندر سے بھی وہی تھا۔جو باہر سے تھا یا کچھ اور تھا۔اور پھر فرماتے ہیں اتنی بارہ فرمایا کہ بند نہیں کرتے تھے۔یہ کلام کہتے چلے گئے کہتے چلے گئے۔یہاں تک کہ میرے دل سے آواز نکلی کہ کاش اس سے پہلے کیں مسلمان ہی نہ ہوا ہوتا کہ آنحضور کی اتنی ناراضگی نہ دیکھتا۔یہ تو ہے اس جستہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا۔ہر انسان کو حق دیا ہے کہ وہ اپنے مذہب کا اعلان کرے اور اگر کوئی مسلمان کہتا ہے تو اس کو غیر مسلم قرار دینے کا حق آنحضور نے صحابہ سے چھین لیا ہے۔اور موقع اتنا خطر ناک تھا کہ عام عقل بھی فیصلہ کرتی ہے کہ ڈر کے مارے کیا ہوگا اور دل سے نہیں ہوا ہو گا۔دوسرا موقع ہے اس سے برعکس لیکن وہ بھی ایک بڑا حسین منظر ہے۔جنگ بدر میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اور آپ کے صحابہ کی ظاہری کمزوری کی حالت سب پر عیاں ہے۔۳۱۳ ایک ہزار عرب جوانوں کے مقابل پر ان میں لنگڑے بھی تھے بوڑھے بھی تھے ، ایسے بھی تھے جن کے پاس لکڑی کی تلوار تھی۔بچے بھی تھے جو ایڑیاں اُونچی کر کے کھڑے ہوئے تھے کہ رسول اللہ ہمیں بچہ سمجھ کے نہ نکال دیں۔یہ شکر تھا۔اور اس وقت اچانک مُسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑی