مجالس عرفان

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 27 of 142

مجالس عرفان — Page 27

۲۷ سنادوں۔رسول اللہ فرماتے ہیں۔اگر کوئی میری طرف کوئی ایسی بات منسوب کرے جو میں نے یہ کہی ہو تو وہ جہمیں اپنی جگہ بناتا ہے۔اس warning انتباہ کو سُن لیجیے۔اس ساری حدیث میں جو تمام دنیا کے فرقوں میں QUOTE (کوٹ) ہوئی ہے۔ایک جگہ بھی قیامت کا ذکر نہیں آتا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف اختلاف کا ذکر فرمایا۔فرمایا کہ جب ۷۲ اور ایک کی بحث چلے گی ۲ ناری ہوں گے۔اور ایک ناری نہیں ہوگا اس لئے یہ تو آپ کہہ سکتی ہیں۔کہ ہم ایک ہیں۔اور تم ہے میں ہو لیکن حدیث کے مضمون کو الٹانے کا آپ کو کوئی حق نہیں۔سوائے اس کے کہ حدیث کے خلاف بغاوت کی جائے میرا توصرف یہ دعوی ہے کہ یہ کہنے کا کسی فرقے کو حق نہیں۔خدا فیصلہ کرے گا۔کہ آیا وہ ایک ہے کہ نہیں۔البتہ سہی وار کے فیصلہ سے رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم کی حدیث پوری ہوگئی کہ ۷۲ ناری اور تہترواں جنتی فرقہ ہے ) ایک مہمان خاتون نے طویل سوال کیا۔آپ نے جتنی بھی گفتگو کی ہے۔وہ کتاب اور سنت کی روشنی میں اور تمام احادیث کی روشنی میں جو قول افعال حضرت محمدؐ کی تھیں ان کی ہی روشنی میں آپ چل رہے ہیں۔لیکن میں نے یہ دیکھا کہ بہت سی احادیث یا بہت سی سنتیں ایسی ہیں۔جن پر آپ عمل پیرا نہیں ہوتے۔مثلاً ابھی میں نے خواتین کو دیکھا کہ نمازہ خواتین نے ادا کی۔اور سلام پھیرنے کے بعد خواتین اپنی سیٹوں پر آگئیں۔جب کہ آنحضور نے فرمایا ہے کہ دعا جو ہے وہ عبادت کی جان ہے۔آنحضرت جب عبادت کیا کرتے تھے۔تو اپنی دُعا کو طویل کر دیا کرتے تھے۔تو کیا وجہ ہے کہ آپ لوگ دُعا نہیں کرتے ؟ مضمون کو واضح کرنے کے لئے اس جملے کا اضافہ کیا گیا ہے۔