مجالس عرفان — Page 28
۲۸ حضور ایدہ الودود نے فرمایا۔ہر نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا سنت نبوی سے ثابت نہیں آپ کی بات درست ہے جائز ہے۔مگر آپ کے حدیث کے علم کے متعلق مجھے کچھ تھوڑا سا اعتراض کا حق دیجئے۔ہمارے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جو سنت ثابت ہو وہ قیامت تک جاری رہنی چاہئیے۔جو حضور سے اور حضور کے خلفاء سے ثابت نہ ہو بعد کے علماء نے اضافے کئے ہوں ہم ان کو قبول نہیں کرتے۔اور احادیث سے سنت سے ہر گز ثابت نہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے بعد ہاتھ اُٹھا کر دعا کرتے تھے۔اس وجہ سے ہم نہیں کرتے۔یہ نہیں کہ ہم سنت کی مخالفت کرتے ہیں۔سنت کو چھوڑ کر نہیں بلکہ ہمارے نزدیک یہ بعد کی رسم ہے جو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں رائج نہیں تھی۔آنحضور کا فیصلہ یہ تھا کہ اصل میں نماز ہی دُعا ہے۔تمام عبادتوں کا سراج نماز ہے اور سب سے اعلیٰ دعا نماز ہے۔اس لئے دُعا جو بھی کرتی ہے نمازہ کے اندر کرنی چاہیے نماز سے نکل کر نہیں۔حضور اکرم صلی الہ علیہ وسلم کی سنت یہ تھی کہ نماز کے بعد نسیجیات پڑھتے تھے۔سُبحان الله - الله اكبر - الحَمدُ لله - یہ حمد اور تسبیح پڑھا کرتے تھے اور اسی کی تاکید کی بعد تازہ تھا تھا کہ دوا کرنے کے بارہ میں ایک بھی حدیث نہیں ہے۔اب میں آپ کو بتا رہا ہوں۔آپ بے شک علماء سے پوچھ کر دیکھ لیجئے کہ حضور نے فرمایا ہو کہ ہر نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کیا کرو۔ئیں یہ عرض کر رہا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یہ علتی ہی نہیں۔اسوقت کمر اقعد یہ ہے کہ چودہ صدیوں کے اندر ہر قوم می جس طرح نئی چیز ہیں نشو و نما پا جاتی