مجالس عرفان — Page 26
۲۶ میں کہتا ہوں ہمیں حق نہیں ہے۔حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم صلی کو حق ہے کہ نہیں ہے ؟ اگر آنحضور خود ایک فیصلہ کریں تو کوئی ہے دنیا میں جو آپ پر انگلی رکھے کہ آپ نے یہ فیصلہ کیوں کیا؟ آنحضرت صلی الہ علی یم نے ایک پیشگوئی فرمائی۔فرمایا کہ میری اُمت کے ۷۲ فرقے ہو جائیں گے۔ایک تہرے ویں جماعت ہوگی گلهُمْ فِي النَّارِ إِلا وَاحِدَةً - وه۔بہتری کے بہتر کاری ہوں گے۔یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فتوی ہے۔میرا نہیں ہے۔فرمایا۔میری اُمت کے فرقے ہوں گے۔بہتر ہے کو ناری کہہ ہے ہیں۔الا واحِدَةً۔صرف ایک ہوگی جماعت جو کہ نادری نہیں ہوگی۔چنانچہ اس حدیث کی بناء پر پہلے دستور یہ تھا۔کہ تمام فرقے یہ کہا کرتے تھے۔کہ ہم وہ ایک ہیں اور باقی بہتر ہے ہیں۔یہ عجیب الٹی گئی ہے عقل بر ۱۹ ء میں یہ فیصلہ ہوا کہ ۷۲ ہم ہیں اور ایک یہ ہے۔۲، ر پر نہر لگادی۔سن لیں۔جب ۲ ایک طرف ہو گئے۔ہم ایک طرف ہو گئے فتوی کس کا چلے گا۔فتویٰ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا چلے گا۔کسی اسمبلی کا نہیں چلے گا۔حضور فرماتے ہیں کہ جب بہتریں اور ایک ہوں تو ایک جنتی ہوگا اور نار ناری ہوں گے۔اور فیصلہ یہ ہے کہ نہیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نعوذ باللہ غلط کہتے تھے ؟ بہتر جنتی اور ایک ناری۔۔۔جنت کی بحث ہی نہیں۔کوئی احمدی جنت کا حق دار انہ خود احمدی ہونے کے لحاظ سے نہیں بن سکتا ہے۔جنت کا فیصلہ اللہ کرے گا۔میں نے تو صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول پیش کیا تھا۔اس قول پر اعتراض کرنے کا کسی مسلمان کو حق نہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کا تو نام ہی نہیں لیا۔ایک بات سنئے۔ایک میں آپ کو حدیث ہوں