مجالس عرفان — Page 36
اب میں آپ کو بتاتا ہوں وہ قطعی علامت جو امام مہدی کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی ہے اور وہ اتنی قطعی ہے کہ اس میں کسی کا کوئی اختلاف بھی اس علامت کو باطل قرار نہیں دے سکتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے امام مہدی کی جو علامتیں بیان فرمائیں ان میں سب سے واضح سب سے روشن علامت وہ ہے جس کا آسمان سے تعلق ہے لینی چاند سورج کا گر ہیں۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ان لِمَهْدِينَا آيَتَيْنِ لَمْ تَكُونَا مُنذُ خَلقِ السَّمَوَاتِ و الأرْضِ يَنْكَسِيفُ الْقَمَرُ الأَول لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ وَ تَنْكَسِيفُ الشَّمْسُ فِي النِّصْفِ مِنْهُ - وَلَمْ تَكُونَا مُنْذُ خَلَقَ اللهُ السَّمواتِ والأَرضِ یہ پورے الفاظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہیں۔اچھا اب بتاتا ہوں۔یہ جو پیشگوئی ہے چاند سورج کے گرہن والی یہ امام مہدی سے وابستہ ہوئی۔یہ پیشگوئی اپنے اندر کچھ شرائط رکھتی ہیں۔چاند سورج کو ویسے گرہن تو بہت لکھتے رہتے ہیں۔ہر تاریخ میں لگ جاتے ہیں جو اس کی گرہن کی تاریخیں ہیں۔بعض جنیوں میں اکٹھے بھی ہو جاتے ہیں۔لیکن جو علامتیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائیں حضور فرماتے ہیں کہ جب سے دنیا بنی ہے کبھی بھی پوری نہیں ہوئیں۔ایک یہ فرمایا کہ چاند کو پہلی رات کا گرسن لگے گا یعنی گرہن کی راتوں میں سے پہلی رات - دوسرا فرمایا۔سورج کو درمیانی دن میں گرہن لگے گا یعنی ہم کہتے ہیں گر ان کے دنوں میں سے درمیانے دن۔دوسرے علماء کہتے ہیں۔نہیں جینے کا پندرواں دن۔اور اگر وہ تیس کا مہینہ نکلا۔تو درمیانی ہو گا کوئی نہیں۔اس لئے لازمی ہے۔جہینہ بھی ۲۹ کا ہو ورنہ درمیانی