مجالس عرفان

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 37 of 142

مجالس عرفان — Page 37

۳۷ دن نہیں بنتا۔بہر حال یہ اختلاف ہے۔اگلی علامت یہ بیان فرمائی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ایک ہی مہینے میں یہ واقعہ ہوگا۔چاند کو پہل کو گرین سورج کو درمیانی کو اور اس چہیتے کا نام رمضان شریف ہوگا۔یہ بھی حضور نے فرمایا اور یہ بھی فرمایا کہ اس وقت امام مہدی کا پہلے ایک دعویدار ہوگا۔ورنہ پھر وہ گواہ کس کا ہوگا۔تو یہ علامتیں کبھی اکٹھی نہیں ہوئیں کہ کبھی دنیا میں کوئی امام مہدی کا دعویدار آیا ہو اور رمضان شریف کا مہینہ ہو اور چاند اور سورج کو ان تاریخوں میں گرہن لگ جائے۔جب مرزا صاحب نے دعوی کیا تو آپ جانتی ہیں نوے سالہ مسئلاتنا مشہور ہوا تھا۔شام میں حضرت مرزا صاحب نے مسیح موجود اور امام مہدی ہونے کا دعوی کیا تھا اور شانہ کے بعد پھر یہ سارا اختلاف شروع ہوتا ہے۔جماعت کی بنیاد شاہ میں ڈالی گئی اور سو میں چاند سورج کو گرہن لگا۔اور اسی طریق کے مطابق جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا تھا۔تیرھویں کو چاند گرہن لگا اور اٹھائیسویں کو سورج کو۔تیرھویں چاند گرہن کی راتوں میں سے پہلی رات ہے۔یعنی ۱۳۲- ۱۲ - ۱۵ تین راتیں ہیں جن میں قانون قدرت کے 10۔مطابق گرہن لگ سکتا ہے۔اس کے سوا لگ ہی نہیں سکتا۔کیونکہ خدا نے اسی طرح زمین و آسمان کو بنایا ہے۔اس کی رفتاریں اس طرح Set کی ہیں کہ سایہ پڑ کر جو گرہن لگتا ہے۔وہ سوائے ۱۳ ۱۴ ۱۵ کے لگ ہی نہیں سکتا۔تو خدا کا بنایا ہوا قانون ہے۔اس کو ہم کیسے بدل سکتے ہیں۔اگلا حصہ ہے۔سورج کو ۲۸ کو گرہن لگا کیونکہ سورج کے بھی تین دن ہیں ۲۷ ۲۸۔اور ۲۹, ان میں سے درمیانہ دن ۲۸ ہے۔جب یہ واقعہ ہو گیا تو بہت سے لوگوں نے احمد میت کو قبول کر لیا۔پنجاب میں بہت سی ایسی جماعتیں ہیں جو اس نشان کو دیکھ کر قائم