مجالس عرفان

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 124 of 142

مجالس عرفان — Page 124

۱۲۴ ضروری قرار دیا گیا۔کہیں بھی تمام احادیث میں جن کی تشریح عالم اسلام کی تاریخ نے کی ہے یہ بات کہیں نہیں آتی کہ مجدد مامور ہو اور اس کی بات مانی جائے۔ایک بزرگ ہے جس نے خدمت کی ہے اور خدا نے اس کو عظیم خدمت کی توفیق عطا فرمائی ہے اور کرتے ہوئے حالات کو سنبھالنے کی توفیق بخشی ہے۔یہ ہے مجددیت کا تصور لیکن خلافت کے مقابل پر جس کا قرآن کریم میں ذکر ہے کسی محمد دیت کا کوئی ذکر نہیں ملتا اگر خلافت راشدہ جاری رہتی اور مجدد پھر الگ الگ کھڑے ہوتے اور دعوے بھی کرتے ، اپنی طرف بھی بلاتے تو وحدت کو پارہ پارہ کر دیتے بجائے فائدہ پہنچانے کے۔اسی لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں مجدد کی پیشگوئی فرمائی وہاں ساتھ یہ بھی خبر دی کہ جب مسیح آئے گا فرمایا در ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاج النبوة۔د مستند احمد بحواله مشكوة باب الانذار والتحذير) پھر مجددیت نہیں آئے گی بلکہ منہاج نبوت پر خلافت جاری ہو جائے گی۔اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف مجددیت کی پیشگوئی فرمائی ہوتی تو ٹھیک ہے ہم سمجھتے کہ اس قسم کے مجدد آئیں گے لیکن آپ نے خود وضاحت فرما دی کہ مسیح موعود کے آنے کے بعد محمد دیت نہیں جاری ہوگی بلکہ خلافت دوبارہ جاری ہو جائے گی۔یہ ایک ایسی صورت نظر آتی ہے جو معقول ہے اور جس کا ظاہر ہونا بعید از عقل نہیں ہے وہ یہ ہے کہ جب تک خلافت راشدہ جاری رہے گی جب ضرورت ہوگی انہی خلفار میں سے اللہ تعالیٰ مجدد بنا سکتا ہے۔یعنی سپیشل توفیق کسی خلیفہ کو دے سکتا ہے بعض کاموں کی اس لئے Clash کمراؤ بھی نہیں ہو سکتا جب ضرورت ہوگی تو اگر خلافت بچی ہے تو پھر اس کے مقابل پر خدا مجدد کو کھڑا نہیں کرے گا۔لیکن خدا کے لئے یہ کون سی روک ہے کہ ایک خلیفہ کو غیر معمولی تجدید دین کی توفیق بخش دے لیکن منصب خلافت منصب مجددیت سے بالا بھی ہے اور ماموریت کا پہلوان معنوں میں رکھتا ہے کہ خلفاء