مجالس عرفان — Page 125
۱۲۵ چونکہ مامور کے جانشین تھے اس لئے ان کی بیعت اور ان کی اطاعت فرض قرار دے دی گئی۔ایک یہ منصب ہے اور ایک مجددیت کا ہے جس کی بیعت فرض ہی نہیں، جس کا دعوی بھی فرض نہیں، تو ظاہر و با ہر فرق ہے اس لئے مجددیت کو خلافت سے فضیلت دی ہی نہیں جاسکتی کہاں یہ کہ ایک کے متعلق اُمت کو پابند کر دیا جائے کہ اس کی بیعت کرتی ہے اور اس کی اطاعت کرنی ہے اور کہاں یہ کہ آزاد چھوڑا ہے بلکہ یہ بھی نہیں پتہ کہ کوئی مجدد ہے بھی یا نہیں۔ہوسکتا ہے کہ کسی بزرگ کے مرنے کے سو سال بعد پتہ لگے کہ وہ مجدد تھے پس مجدد کا مفہوم آپ سمجھ لیں تو پھر آپ کے ذہن میں کوئی CLASR پیدا نہیں ہوگا۔احمدیت کی تعلیم اور ان کی مجددیت کی احادیث میں بلکہ تمام اسلامی تعلیم کو مد نظر رکھ کر بات کریں گی تو ایک نہایت خوبصورت سمجھی ہوئی اور ایک جاری شکل نظر آئے گی جس میں کوئی ذہنی CLASH نہیں ہے۔SH اس سوال پرکی اگر عورت برقع پہننا چاہے اور شوہر اجازت نہ دے تو کیا کرے۔حضور نے جواب دیا۔یہ بھی کیسے شوہر ہیں ! ایسے شوہر کے متعلق مجھے چھٹی لکھیں۔اب وہ کہیں گی اگر چٹھی لکھنے کی اجازت نہ دے اگر ایسا ہے تو پھر خدا سے شکایت کریں اور کیا کیا جاسکتا ہے۔ایک بہن نے کہا قرآن خوانی کے ضمن میں ایک یہ بھی رسم ہے کہ غیر از جماعت بہنیں گھروں میں سیپارے بانٹ دیتی ہیں کہ یہ سیپارہ تم پڑھ کر فلاں کو بخشوا دو۔اس کے متعلق کیا حکم ہے؟