مجالس عرفان

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 92 of 142

مجالس عرفان — Page 92

۹۲ تھے ان کے ساتھ سختی سے کلام کیا میا کہ ان کو معلوم ہو کہ کسی پر حملہ کرنے سے کتنا رکھ پہنچتا ہے ان لوگوں کو جن کو ان سے محبت ہو۔تو یہ وہ پس منظر ہے جس میں حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہو) نے اپنی بے شمار کتابوں میں سے صرف چند جملوں میں سختی کی ہے۔یعنی انگلی سے زائد کتب لکھیں اور وہاری کتب بھلا کر وہ چند جملے جو سختی کے ہیں ان کو موقع محل سیاق وسباق سے اٹھا کر چھوٹے چھوٹے اشتہاروں میں شائع کرتے ہیں اور لوگوں کے دلوں میں غلط فہمیاں پیدا کرتے ہیں۔مثلاً یہ جو موقع ہے آپ نے جو لکھا ہے کہ تم لوگ جو مسلمانوں کو عیسائی بنانے کے لئے پہنچے ہوئے ہو امر واقعہ یہ ہے کہ تمہاری عورتیں بے جانی کے ساتھ گھر گھر جاتی ہیں اور لوگوں کو طرح طرح کی حرص دلاتی ہیں۔اور تم اپنے اموال بھی خرچ کر رہے ہو اور اس طرح دین بدلا رہے ہو۔یہ طریق تو شرفاء کا طریق نہیں ہے۔یہ ہے مفہوم اور پھر حملے کرتے ہو اسلام پر یعنی تمہیں اتنی غیرت نہیں ہے کہ اپنی عورتوں کو لوگوں کے گھروں میں بھجواتے ہو کہیں شادیوں کی لانچیں دیتے۔کہیں اور گندے طریق اختیار کر کے ان کو عیسائیت کی دعوت دے رہے ہو اور تمہارے معاشرے کا یہ حال ہے کہ مسلمہ طریق پر تمہارے اندر بے حیائی اتنی عام ہوگئی ہے کہ ایک بڑی تعداد میں تمہارے ہاں ولد الحرام پیدا ہو رہے ہیں۔اس معاشرے کو لے کر تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملے کرتے ہو کہ نعوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَالِكَ وہ پاک نہیں تھے کہتے ہیں چھاج بولے تو بولے چھلنی کیا بولے یہ مضمون تھا جس کو حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہوم نے عیسائیوں کے مقابل پر بیان فرمایا ہے۔اور وہ کتاب ہی عبداللہ آتھم کے مناظرہ کے سلسلے میں لکھی گئی ہے۔جس میں یہ حوالہ موجود ہے اور سارا گھلا کھلا ذکر فرما رہے ہیں۔اس بات میں اب بتائیے کہ یہ