مجالس عرفان

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 93 of 142

مجالس عرفان — Page 93

۹۳ امر واقعہ ہے یا گالی ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ امریکہ کی جو Figures تعداد ابھی چھپی ہیں اور بڑے فخر سے انہوں نے بیان کی ہیں۔اس میں کوئی چھپاتے نہیں۔ہر سال ان کے ہاں ۳۰ فیصد ایسے بچے پیدا ہو رہے ہیں جو قانون گیاں بیوی کی اولاد نہیں ہیں۔اور ایک سال میں ۳۰ فیصد تو سو آئین سال میں ساری قوم کا خون بدلا گیا۔زیادہ سے زیادہ اتفاقات کو آپ ڈال لیں تو چھ سات سال میں کوئی بھی باقی نہیں رہتا۔ایسی قوم اگر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پہ ناپاکی کے الزام لگائے اور حضرت عائشہ کا نام گستاخی اور بدتمیزی سے لے ان کے مقابلے میں اگر ان کو یہ کہا جائے کہ تم اپنا معاشرہ تو دیکھو چغل خوریاں کرنے والے جھوٹ بولنے والے افراد کے ساتھ چلنے پھرنے والے کثرت کے ساتھ چھوٹے پروپیگنڈے کرنے والے ان کے متعلق قرآن کریم نے فرمایا عُتُل بَعْدَ ذالك رينو - تو کیا کوئی کہے گا کہ یہ زبان بڑی خطرناک ہے ہم رسول اکرم یا خدا کو نہیں مانتے۔یہ لغو بات ہے جب واقعات کی طرف توجہ دلانی پڑتی ہے اور اس معاملے میں سختی کرنی پڑتی ہے۔جہاں تک کیتیوں، بلیوں کا تعلق ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے کہ ہم نے ان کو سوروں میں اور بندروں میں تبدیل کر دیا۔یعنی کتے سے بڑھ کر ہیں سٹور یا نہیں تو کیا بتنی ہیں ؟ قوم کے کردار کو ظاہر کرنے کے لئے یہ محاورے ہوتے ہیں۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ ظاہری طور پر سٹور بن گیا اور گتا ہو گیا بلکہ اللہ تعالے قوم کی حالت اُس پر ننگی کرنے کے لئے محاورے استعمال کرتا ہے۔چنانچہ یہود علماء کے لئے یہ لفظ قرآن کریم میں آئے ہیں کہ ہم نے ان کو سٹوروں اور بندوں میں تبدیل کر دیا۔آج کل علماء اس کی یہ تفسیر کرتے ہیں کہ سچ مچ ان کو سور اور بندر بنا دیا تھا اور وہ کئی دن تک ایک قلعے میں قید رہے سوٹر اور بندر کے