مجالس عرفان — Page 82
AY آئے گا کس طرح بیچارہ پھر ؟ اب آپ نے اس کے تو رستے بند کر دیے۔خدا امام بناتا ہے۔اس پر عقیدہ ضرور ہے۔جب تک خدا اس پر وحی نہ کرے وہ امام بن نہیں سکتا۔اور وحی کے رستے میں روک ڈال دی کہ وجی ہم نے ہونے نہیں دیتی۔تو اگلے امام سے بھی چھٹی ہو گئی نا ساتھ ہیں؛ اس لئے عقیدہ اپنا عقل اور فہم کے مطابق Consistent بنائیں۔آپس میں اپنے عقیدے کے درمیان تضاد نہیں ہونا چاہیے۔یہ قطعی بات ہے۔جیسا کہ میں نے بیان کیلہ آپ بے شنگ علماء سے پوچھئے۔ساری دنیا کے علماء اس بات پر متفق ہیں کہ امام مہدی کو خدا بنائے گا۔وہ خوابوں سے نہیں بنے گا۔واضح طور پر خدا اس کو کھڑا کرے گا اور پھر اس کی مدد کرے گا۔امام مہدی پر ایمان لانا کیوں ضروری ہے ؟ دوسرا جزو جس پر سب علماء متفق ہیں وہ یہ ہے کہ جب امام مہدی کو خدا بنا دے گا تو امت پر فرض قرار دے گا کہ اس کو ضرور مانو۔یہ ناممکن ہے کہ خدا امام بنائے اور امت کو چھٹی دے دے کہ اب بیشک اس کی تکذیب کرو۔امام بنایا تو میں نے ہے لیکن تم گالیاں دو اس کو جھوٹا کہو مرتد قرار دو مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا جو مرضی کر لو اور پھر بھی تم اُمت کے وجود رہو گے۔امر واقعہ یہ ہے کہ جس کو خدا امام بنائے اس کا انکار کافر تک بنا دیتا ہے۔اور ان معنوں میں قرآن کریم فرماتا ہے کہ ہم نے کبھی کسی رسول میں فرق نہیں کیا۔مرتبے کے لحاظ سے تو بہت فرق ہے۔قرآن کریم خود فرماتا ہے۔تلك الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلى بَعْضٍ۔