مجالس عرفان — Page 62
41 لفظ جن کا حقیقی اور معنوی اطلاق دونوں لفظ ہیں "و " والا بھی ہے اور مین والا بھی ہے۔جماعت احمدیہ کا یہ موقف نہیں ہے۔کہ انسان کے علاوہ جن نام کی کوئی مخلوق نہیں ہے۔یہ موقف بالکل نہیں ہے۔جماعت احمدیہ کا موقف یہ ہے کہ قرآن کریم سے ثابت ہے اور احادیث نبوی سے ثابت ہے کہ جن کا لفظ الگ مخلوق پر بھی عائد ہوتا ہے اور انسانوں پر بھی عائد ہوتا ہے وہاں معنوی ہے۔اور دوسری جگہ حقیقی ہے۔کیوں ! مختصراً بتاتا ہوں۔مثلاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہڈیوں سے استنجا نہ کرو، ہڈیاں جنوں کی خوراک ہے۔اس زمانے میں تو بیکٹیریا کا تصور بھی کوئی نہیں تھا۔آج معلوم ہوا کہ ہڈیاں بیکٹیریا کی خوراک ہے۔اور اس سے واقعہ Injury ہو جاتی ہے۔یعنی بیماریاں پیدا ہو سکتی ہیں تو آنحضرت کو اللہ تعالے نے کسی مخلوق کی خبر دی تھی جو مخفی ہے۔اس کی مختلف شکلیں ہو سکتی ہیں ایک شکل بیکٹیر با لینی ایسی زندگی کی قسمیں جو آنکھ سے نظر نہیں آئیں۔جن کا لفظ ہر مخفی مخلوق کے لئے عربی میں بولا جاتا ہے۔اور عربی ڈکشنریاں اس کی بکثرت مثالیں دیتی ہیں۔مثلا قرآن کریم میں جان کا لفظ سانپ کے لئے استعمال کیا۔اور عربی میں جن سانپ کو بھی کہتے ہیں کیونکہ وہ چھپ جاتا ہے۔بلوں میں رہنے والی مخلوق ہے۔جن کا لفظ پہاڑی قوموں کے لئے بھی قرآن کریم میں استعمال ہوا۔جن کا لفظ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کے قبضے میں بھی جو قومیں دی گئیں تھیں ، ان کے لئے بھی قرآن کریم نے استعمال فرمایا۔