مجالس عرفان

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 63 of 142

مجالس عرفان — Page 63

۶۳ حالانکہ ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا۔مقرنِينَ فِي الأَصْفَاه - وه زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔اگر وہ جسمانی جن نہیں تھے۔اور روحانی چن تھے ، وہ تو زنجیروں میں نہیں جکڑے جاتے۔دوسری جگہ اسی آیت کے شروع میں قرآن کریم فرماتا ہے کہ وہ غوطے لگاتے تھے سمندر میں۔تو اگر وہ آگ تھی تو آگ تو غوطے سے ختم ہو جاتی ہے۔تو قرآن کریم میں جن کا لفظ متفرق جگہ مختلف معنی میں استعمال فرمایا۔مثلاً سورۃ رحمان میں فرماتا ہے۔يمَعْشَرَ الجن والان اِنِ اسْتَطَعْتُمْ آن ات تَنْفُذُوا مِنْ أَقَطَارِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ فَانْفُذُواء لا تَنْفُذُون الا بسلطنه (سوره رحمت: ۳۴) اسے معشر الجن والانس تم اگر چاہتے ہو کہ تم آسمان اور زمین کی قطاروں سے نکل جاؤ تو نکل کر دکھاؤ۔سلطان کے بغیر نہیں نکل سکو گئے۔یہاں کیا معنی ہیں۔جن جو دوسرے ہیں یعنی کوئی اور وجہ رہے انسان کے علاوہ ہمارے نزدیک وہ مخاطب ہی نہیں ہیں۔کیونکہ عربی محاورے سے ثابت ہے کہ جن بڑی قوموں کو بھی کہتے ہیں۔غالب اور عظیم الشان لوگوں کو بھی بولا جاتا ہے۔لیکن بعض اوقات عوام الناس کے لئے عربی میں صرف ناس کا لفظ آتا ہے۔تو مخاطب یہاں اے بڑے لوگوں کے معشر اور اسے چھوٹے لوگوں کے معشر یارے Capitalist طاقتوں کے نمائندو ، اور اے عوامی طاقتوں کے نمائندو۔یہ ترجمہ اس کا سو فیصدی درست بیٹھتا ہے۔اور واقعات ثابت کر رہے ہیں کہ قرآن کریم کی یہ مراد تھی۔کیونکہ یہ کوشش اب شروع ہوئی ہے۔آج کے زمانے میں جب کہ دنیا عوامی طاقتوں اور Capitalist بورژوا طاقتوں میں بٹی ہے۔تب یہ ہوئی ہیں۔اور قرآن کریم ان کو اٹھا چانچ کر رہا