مجالس عرفان — Page 51
اه شکل میں نہیں کیا گیا۔اور وہ میرے والد (مرحوم) کا مضمون تھا جو خلیفہ ایسی اشتی تھے۔جب میں خلافت کے لئے منتخب ہوا تو پہلا بیان میں نے جماعت کو یہ دیا تمام دنیا میں کہ ساری جماعت نماز تہجد میں دُعائیں کریں اور حتی الامکان کوشش یہ کریں کہ اسرائیل کا وجود کہ نیا سے ختم ہو۔اور جو مظالم کر رہے ہیں ؟ یہ مسلمان اس سے نجات پائیں۔چنانچہ ساری دنیا کی جماعتوں میں دعائیں کی گئیں۔اور ہر جگہ جب بھی مجھ سے سوال ہوا باہر ، اسرائیل کے متعلق سب سے زیادہ مدلل جواب ہماری جماعت کی طرف سے میں نے ان کو دیا۔تو یہ خیال کر لینا کہ ہم شامل نہیں یہ غلط ہے۔رہا یہ سوال کہ پھر تم جہاد میں جا کر شامل کیوں نہیں ہوتے۔جو عرب احمد ی ہے وہ شامل ہوتا ہے ، جو بغیر عرب ہے اس کو عرب دنیا شامل نہیں ہونے دیتی۔اسی خاتون نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔ان کو شکست کیوں نہیں ہوتی ؟ حضور ایدہ الودود نے فرمایا یہ میں پتا دیتا ہوں شکست ہونے کا مسئلہ یہ ہے کہ قرآن کریم نے ایک پلنگوئی کی تھی۔اس پیشگوئی میں لکھا ہوا تھا۔ایک ایسا وقت آئے گا کہ ہم یہود کو دوبارہ بیت المقدس پر قابض کر دیں گے۔یہ قرآن کریم میں لکھا ہوا ہے جئْنَا بك و لفيفا اے یہود تمہیں پہلے بھی بیت المقدس عطا ہوا اور تم نے