مجالس عرفان — Page 52
۵۲ نافرمانیاں کیں اور سرکشی کی۔ایسا وقت آنے والا ہے کہ ہم دوبارہ تمہیں بیت المقدس پر مسلط کریں گے۔اور پھر جب تم دوبارہ بے حیائیاں اور مظالم کروگے تو ہم تمہیں اپنی عبرتناک سزا دیں گے کہ وہ ساری دنیا کی قوموں کے لئے ایک نصیحت بنے گی۔یہ معدہ کا وعدہ ہے۔اور ایک وعدے کا حصہ پورا ہو گیا ہے۔اس لئے لازما وسرا بھی پورا ہوتا ہے۔یہ تقدیر الہی ظاہر کریگی۔کب یہ واقعہ ہو گا۔یہ ہمیں نہیں کر سکتا۔لیکن مجھے یقین ہے کہ انشاء اللہ ہماری زندگیوں میں یہ واقعہ رونما ہو جائے گا لیکن ہماری لڑائیوں کے نتیجے میں نہیں۔اللہ تعالیٰ نے اس تقدیر کو چلانا ہے۔ہو سکتا ہے کہ عالمی جنگ ایک ایسی شکل اختیار کر جائے کہ یہود کو شدید سزائیں میں مثلاً جرمنی میں دوسری جنگ عظیم سے پہلے یہود کو سزائیں دی گئیں تھیں کہ نہیں۔اتنی ہولناک سزائیں دی گئیں تھیں۔کہ دنیا کی تاریخ میں کسی کو نہیں ملیں۔اس لئے آپ مایوس کیوں ہوتی ہیں جس خدا نے یہ تقدیر کی ہے کہ یہ یہاں آگئے ہیں وہی خدا دوسری تقدیر بھی چلائے گا انشاء اللہ تعالے۔محترم مہمان نے سوال کا انداز بدلا۔وہ تو صحیح ہے لیکن ہم کہتے ہیں کہ امام مہدی آئیں گے تو ان کو شکست دیں گے۔ہم تو مانتے ہیں ناں۔تو پھر آپ آئے ہیں تو پھر یہ کیوں چاروں طرف سے اسلام پر مظالم کر رہے ہیں ؟ حضور پر نور نے مہدی کے تصور کی وضاحت فرمائی۔قومی ترقی کا راز جانی ومالی قربانیوں میں مضمر ہے