مجالس عرفان

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 33 of 142

مجالس عرفان — Page 33

٣٣ وہ کہتے ہیں کہ یہ بت پر وہ نہیں کرتے خدا ظاہر نہیں ہوتا قیمت یہ زمانہ ہے کہ میں کافر نہیں ہوتا تو حساس لوگوں نے تو اس زمانہ میں جو سو سال پہلے کا زمانہ ہے اس وقت بھی پہچان لیا تھا کہ اطوار بگڑ گئے ہیں۔تو یہ وہ ساری علامتیں ہیں۔امام مہدی کے آنے سے پہلے کی جن کو پورا ہوئے سو سال سے زائد عرصہ گزرچکا ہے۔اس لئے علماء کہتے تھے کہ چودہویں صدی کے سر پہ امام مہدی آجائے گا۔علماء کہتے تھے کہ نہیں ؟ ساری مسجدوں سے یہ اعلان کیا کرتے تھے کہ چودہ ہوئیں صدی آئے گی تو اس کے کسریہ امام مہدی آجائے گا۔جب چودہویں کا سر آیا تو حضرت مرزا صاحب کے سوا امامت کا دعویدار ہی کوئی نہیں تھا۔اب بڑی مصیبت میں پھنس گئے کہ ہم تو خود کہا کرتے تھے کہ چودہویں صدی کے کرکے آئے گا اور آگئے مرزا صاحب ان کو تو ہم نے مانتا نہیں۔تو پھر انہوں نے کہا کہ ابھی تو چودہ ہویں کا سر پورا نہیں گزرا۔چنانچہ اس وقت کے علماء نے لکھا کہ جو چودھویں کا سر ہے یہ پچھیں، تین سال تک چلے گا۔اور ۳۴ سال تک بڑھا دیا۔چنانچہ دلی کے مشہور صوفی خواجہ حسن نظامی صاحب ان سے احمدیوں نے جب اس بات کا مطالبہ کیا کہ بیٹی کل تک توتم کہہ رہے تھے کہ چودھویں صورتی کے سریع آجائے گا اور گیا کہاں با علامتیں تو پوری ہوگئیں اور وہ نہیں آیا تو خواجہ حسن نظامی صاحب نے کہادی و ۱۲۳۴ سال تک و بینی صدای کامیار در حصہ یہ شہر کا چلنا ہے۔تو ہم قوت رکھتے ہیں کو ۳۷ سال گورنے سے ترقی پہلے آجائے گا۔وہ کبھی نہ آیا۔پھر علما نے کہا اچھا پیسٹ میں پھر کہا اچھا کام پر آجائے گا اور شائع کیا۔اور موروں میں اعلان کیا کہ چودھویں صدی نہیں کرے گی ؟