مجالس عرفان — Page 34
ایک دن بھی رہ گیا تو سورج غروب نہیں ہوگا۔جب تک امام مہدی نہ آجائے۔کل ایک تو یہ کہتے تھے۔اور آج کیا کہ ر ہے ہیں۔کہاں گیا وہ امام مہدی اینڈ ہیں صدی کا جشن بھی متالیا ساری اُمت نے اور یہ بھی نہیں سوچا کہ یہ کیا واقعہ ہمارے سامنے ہو رہا ہے۔خدا تعالئے جگا رہا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد آج ایک ایک بھی صدی کا جشن اُمت مسلمہ نے نہیں منایا تھا۔صرف پندرہویں صدی کا منایا۔توجہ دلانے کے لئے خدا نے یہ انتظام کیا۔یہ بتانے کے لئے کہ تمہاری صدی خالی چلی گئی۔اس وقت ہم نے یہ سوال اٹھایا۔ہم نے علماء سے کہا کہ جشن تو وہ مناتا ہے جس کی بارات آجائے جس کا دولہا پہنچے اس کو تو حق ہے جشن منانے کا۔تمہارا تو نہ چودہویں کا دولہا آیا نہ پندرہویں کا آیا۔یہ جشن کس بات کا منارہے ہو۔خالی صدیوں کا جشن مناتا تو عجیب بات ہے۔مہدی کے انکار کے ساتھ مجدد سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے پھر علما ء نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ نہیں نہیں یہ سب غلطی تھی۔کسی صحیح حدیث میں قطعی حدیث میں جو صحاح ستہ میں ہو یہ ثابت نہیں ہے کہ چودھویں صدی کے سر پہ امام مہدی آئے گا۔اس لئے یہ ہمارے خیالات تھے، بنہ رگوں کی باتیں تھیں۔جو بھی تم کہ لو غلطی ہوگئی بھتر ماری جس کو کہتے ہیں۔وہ ہم نے کر دی۔تو نہیں آنا تھا چودہویں کے سر پہ۔تو ہم اس کا یہ جواب دیتے ہیں کہ بھٹی چودھویں کے کر یہ امام نہیں آتا تھا ؟ مجدد کہاں چلا گیا۔تم یہ تو مانتے ہو تا کہ وہ قطعی حدیث ہے کہ ہر صدی کے سر پر مجدد ضرور آئے گا۔چودھویں صدی کے سر پر تیس مجدد نے آنا تھا وہ اگر امام مہدی نہیں تھا تو مجدد تو نکالو۔غیر احمدیوں کے نزدیک امام مہدی ایسا غائب ہوا ہے۔