مجالس عرفان

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 24 of 142

مجالس عرفان — Page 24

احمدی تو نہیں تھے سینکڑوں سال پہلے وہ وفات پاچکے ہیں۔علمائے اہلسنت میں سے تھے۔کہتے ہیں اس کا اصل اس کی حقیقت اس طرح ظاہر ہوتی ہے، اس کا تضاد اس طرح دور ہوتا ہے کہ بیف دہی کا مفہوم ہے کہ میرے مخالف مجھے چھوڑ کر میرے سوا چنانچہ اس کی تائید میں وہ قرآن کریم کی یہ آیت پیش کرتے ہیں۔فباي حَدِيد بَعْدَ اللهِ وَ أَيَاتِ يُؤْمِنُون۔اللہ اور اس کے نشانوں کے بعد پھر وہ کیا مانیں گے۔فرماتے ہیں۔اللہ کے بعد تو کوئی نہیں ہوتا۔وہ تو ازلی ابدی ہے اسی طرح وہ اور عرب محاورے بھی بتاتے ہیں اور ثابت کرتے ہیں کہ اس حدیث میں بعد کا معنی ہے میرے خلاف مجھے چھوڑ کر میری شریعت سے ہٹ کر، اور یہ معنی باقی تمام احادیث کے ساتھ مطابقت کھا جاتا ہے۔پس یہ ہے بنیاد کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کام میں تضاد نہیں ہو سکتا اس لئے وہی معنی کرنا پڑے گا جس کا تضاد دوسری احادیث سے نہ ہو۔اب اس مضمون کی دوسری احادیث مینے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔مسیح ابن مریم نازل ہوگا اور وہ نبی اللہ ہو گا۔آنے والے کے متعلق فرمایا۔گزشتہ کی بات نہیں کر رہے۔نازل ہوگا وہ نبی اللہ ہو گا وہ نبی اللہ یہ کام کرے گا نبی اللہ یہ کرے گا نبی اللہ وہ کرے گا۔چار مرتبہ صحیح مسلم کی حدیث میں آنے والے کو نبی اللہ فرمایا۔پھر ایک جگہ فرمایا۔ليْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ فِي کہ میرے اور ریح ابن مریم کے درمیان کوئی نبی نہیں۔اب بعدی کا مضمون کسی اور نے تو حل نہیں کیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود اس مضمون کو کھولتے چلے جارہے ہیں۔بعدی کا ایک مفہوم