مجالس عرفان — Page 23
۲۳ ملا علی قاری کہتے ہیں کہ کوئی اگر یہ کیسے کہ اس لئے خدا نے مار دیا کہ نبی نہ بن جائے تو اس سے زیادہ لغو معنی ہو ہی نہیں سکتے۔اول تو خدا انعام سے محروم کرنے کے لئے کسی کو مارا نہیں کرتا۔دوسرے انعام دنیا اس کے اپنے بس میں اپنی طاقت میں تھا۔کوئی زبر دستی تو نہیں لے سکتا نبوت یہ تو موہت ہے۔فضل ہے محض۔کوئی کمائی کا ذریعہ تو نہیں ہے کہ آپ نے یہ کما لیا۔اس لئے لاز ما بخوست پالیں گے۔تو موہت پر یہ فقرہ بولا ہی نہیں جاسکتا۔اللہ تعالے نہیں دینا چاہتا تو نہ دیتا۔دوسرے وہ کہتے ہیں کہ مضمون کا سیاق وسباق بتا رہا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگر خاتمیت کا معنی زمانی لحاظ سے آخری سمجھتے تو ہر گز یہ فقرہ نہ بولتے۔آپ کو پھر یہ کہنا چاہئے تھا کہ کیونکہ ہرقسم کی نبوت ہمیشہ کے لئے بند ہو گئی ہے۔اس لئے میرا بیٹا ہزار سال بھی زندہ رہتا تو نبی نہ بنتا۔پچھلے سارے مقام پا لیتا۔لیکن بنوت چونکہ بند ہوگئی ہے اس لئے نہ بنتا۔یہ کہنے کے بجائے فرماتے ہیں۔اگر یہ زندہ رہتا تو نبی بن جاتا۔پھر لور بھی مدیش ان کے سامنے آئیں۔انہوں نے کہا ایک عجیب بات ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ نے ایک آدمی کو یہ کہتے سُنا کہ " لَا نَيَّ بَعْدَهُ : آنحضرت کے بعد کبھی کسی قسم کا نبی نہیں آئے گا ، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے ان کو بلایا اور فرمایا قُوْلُوْاإِنَّهُ خَاتَمُ الأَنْبِيَارِ وَ لَا تَقُولُوا لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ یہ تو کہا کرو کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں یہ نہ کہا کرو کہ آپ کے بعد کوئی بنی نہیں ہے۔کہتے ہیں آخر ان کو کیا خطرہ پیدا ہوا جس کو دور کرنے اور سمجھانے کے لئے انہوں نے یہ طریق استعمال کیا۔اس کے بعد وہ محاکمہ کرتے ہیں اور وہ